جنسی تعلقات کےلئے رضامندی کی عمر ججس کی صوابدید پر چھوڑ دیں: لا کمیشن

حیدرآباد (دکن فائلز) بائیسویں لاءکمیشن نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ وہ بچوں کو، جنسی جرائم سے تحفظ دینے کے قانون POCSO کے تحت،بچے کی طرف سے رضامندی کی موجودہ عمر برقرار رکھے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ اِس عمر کو کم کرنے سے، بچوں کی شادی اور بچوں کی تجارت کی روک تھام کیلئے کی جانےوالی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہندوستان میں بچے کی طرف سے رضامندی کی عمر فی الحال18 سال ہے۔

لا کمیشن نے پاکسو ایکٹ کے تحت رضامندی کی عمر 18 سے گھٹاکر 16 سال کرنے کے بارے میں وزارت قانون کو اپنی سفارش پیش کی ہے۔ لا کمیشن نے رضامندی کی موجودہ عمر کو کم نہ کرنے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے ججوں کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیے۔ لا کمیشن نے جسمانی تعلقات کے لیے رضامندی کی عمر کو کم کرنے کے معاملے پر مرکزی حکومت کو مشورہ دیا ہے۔

کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ POCSO قانون میں اُن کیسوں کو حل کرنے کے مقصد سے کچھ خاص ترمیمات کی ضرورت ہے،جن میں درحقیقت، اَن کہی رضامندی ہوتی ہے، اگرچہ 16 سے 18 سال کی عمر کے بچے کی طرفسے قانونی طور پر یہ کوئی رضامندی نہیں ہوتی۔ لاءکمیشن نے کہا کہ اِن کیسوں کی یہ نوعیت نہیں ہوتی کہ انہیں بھی، اُنہیں کیسوں کی طرح حل کیا جائے، جو صحیح معنوں میں POCSO قانون کے تحت آتے ہیں۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ اس مہینے کی 27 تاریخ کو قانون کی وزارت کو سونپی تھی۔ اس رپورٹ کا موضوع تھا، جنسی جرائم سے بچوں کو تحفظ دینے کےقانون 2012 کے تحت، بچے کی رضامندی کی عمر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں