حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوتوا واچ کے مطابق زی نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے مسجد کے اماموں کو فلسطینیوں کے لیے دعا نہ کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں سخت کاروائی کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے پرانی دہلی کی ایک مسجد کے امام پر فلسطین کےلئے دعا نہ کرنے کےلئے دباؤ ڈالا تھا۔
وہیں سینئر صحافی شمس تبریز قاسمی نے بتایا کہ انہوں نے دہلی کی متعدد مساجد کا دورہ کیا جبکہ پولیس کی جانب سے مساجد کو اسی طرح کے نوٹس جاری کئے گئے۔ اس معاملہ پر مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہاکہ غزہ کے لئے دعا سے روکنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔
انقلاب کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہلی پولیس نے فلسطین کے لئے دعائیں کرنے سے ائمہ حضرات کو روک دیا ہے۔ نمازوں اور خطبوں کے دورن غزہ میں اسرائیلی فورسیس کی جارحیت پر مشتمل موجودہ حالات کے حوالے سے فلسطین کا تذکرہ کرنے کے خلاف ائمہ کو مذکورہ پولیس نے وارننگ جاری کی ہے۔
Delhi Police Bans Prayers For Palestine In Mosques
The move comes amid the ongoing war between Israel and Palestine, which has killed more than 10,000 Palestinians in the last 33 days.
Read:https://t.co/cv5KjXiJQ0 pic.twitter.com/lhJKVcdiFX
— The Observer Post (@TheObserverPost) November 14, 2023
اس طرح کی نوٹس 14 نومبر کو جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ ”اس کی تعمیل میں ناکامی مذہبی لیڈروں کے لئے نتائج“کا سامنا کرنا پڑیگا۔اپنی رپورٹ میں انقلاب نے کہا ہے کہ دہلی پولیس کے اہلکاروں نے پرانی دہلی کی ایک مسجد میں مداخلت کرتے ہوئے امام سے کہا کہ وہ اپنی نماز یا تقریر میں اسرائیل کا ذکر نہ کریں۔
دہلی پولیس کی جانب سے اب تک اس خبر سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔


