اترپردیش میں مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں 9 عیسائی مبلغ گرفتار

حیدرآباد (دکن فائلز) ریاست اتر پردیش میں غلط طریقہ سے مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں پولیس نے 42 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے اب تک 9 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ غریب اور قبائلی لوگوں کو عیسائی بنا رہے تھے۔ یہ واقعہ یوپی کے سون بھدرا ضلع میں پیش آیا۔ پولیس نے مذہبی کتابیں، تبلیغی مواد کے علاوہ لیپ ٹاپ کو ضبط کرلیا۔

ضلع کے چوپان پولیس اسٹیشن میں مذہب کی تبدیلی سے متعلق ایک کیس درج کیا گیا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ غلط طریقہ سے لوگوں کو مذہب عیسائیت میں شامل کیا جارہا ہے۔

اتر پردیش حکومت نے مذہبی تبدیلی پر پابندی سے متعلق خصوصی قانون بنایا ہے۔ گرفتار افراد کی شناخت تمل ناڈو کے چنئی سے جے پربھو، اتر پردیش کے رابرٹ گنج سے اجے کمار اور آندھرا پردیش کے وجے واڑہ سے چیکا ایمینوئل کے طور پر کی گئی ہے۔ اسی طرح گرفتار دیگر افراد میں راجندر کوہل، رنجن، پرمانند، سوہن، پریم ناتھ پرجاپتی اور رام پرتاپ شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں