حیدرآباد (دکن فائلز) پانچ ریاستوں کے انتخابات میں مجموعی طور پر کانگریس کا ناقص مظاہرہ رہا۔ چار ریاستوں میں آج ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے جبکہ اب تک کی تازہ اطلاعات کے مطابق مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کو بڑھت ملی ہوئی ہے اور اب تک کے نتائج سے ایسا لگتا ہے کہ تینوں میں ریاستوں میں بی جے پی اقتدار پر فائز ہوجائے گی۔
مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان اور تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کیلئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ان ریاستوں میں پچھلے ماہ میزورم کے ساتھ ووٹنگ ہوئی تھی۔ چھتیس گڑھ کے علاوہ باقی سب جگہ ایک مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔ چھتیس گڑھ میں 7 اور 17 نومبر کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ میزورم میں ووٹنگ 7 نومبر، مدھیہ پردیش میں 17 نومبر کو، راجستھان میں 25 نومبر کو اور تلنگانہ میں 30 نومبر کو ووٹنگ ہوئی تھی۔
میزورم اسمبلی انتخابات کیلئے ووٹوں کی گنتی آج ہی ہونی تھی البتہ اسے بدل کر اب کَل کا دن کردیا گیا ہے۔ انتخابی کمیشن نے مختلف مکتبہ ہائے فکر کی جانب سے موصول کئی درخواستوں کے بعد گنتی کے دن کو تبدیل کیا تھا، کیونکہ اتوار کا دن میزورم کے عوام کیلئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
بھوپال سے خبر ہے کہ مدھیہ پردیش میں گنتی پرامن طور پر جاری ہے۔ 230 اسمبلی سیٹوں کیلئے ریاست میں کُل 77 اعشاریہ آٹھ دو فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ 2 ہزار 533 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ آج ہوگا۔
مدھیہ پردیش میں 20 ہزار سے زیادہ افسران اور ملازمین 52 ضلع ہیڈ کوارٹروں کی تمام 230 اسمبلی حلقوں کیلئے ووٹوں کی گنتی کر رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش چیف الیکٹورل افسر انوپم راجن نے بتایاکہ ووٹوں کی گنتی کا نتیجہ پانچ سے دس گھنٹوں میں دستیاب ہونے کا امکان ہے۔
راجستھان سے خبر ہے کہ انتخابات کیلئے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ ریاست کے 199 حلقوں کیلئے 36 گنتی کے مراکز پر EVM مشینوں میں بند ووٹوں کی گنتی کے تقریباً چار ہزار 180 راﺅنڈ ہوں گے۔ چیف الیکٹورل آفیسر پروین گپتا نے بتایا کہ 33 ضلعوں کے ضلع ہیڈکوارٹر پر ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ البتہ جے پور اور ناگور میں تین مزید مراکز ہیں۔ اس طرح گنتی کے مراکز کی کُل تعداد 36 ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ CRPF اور RAC اور مقامی پولیس کی ٹیموں کی کُل 175کمپنیاں گنتی کے مراکز پر تعینات کی گئی ہیں، تاکہ گنتی کے دوران علاقوں میں سلامتی اور امن کو یقینی بنایا جاسکے۔
کرن پور سیٹ کیلئے ووٹنگ کو کانگریس امیدوار گُرمیت سنگھ کُنر کے انتقال کے بعد ملتوی کردیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ میں ریاست کے 33 ضلعوں میں سبھی گنتی کے مراکز پر سکیورٹی کے تین سطح والے انتظامات کئے گئے ہیں۔
چھتیس گڑھ کی 90 رکنی اسمبلی حلقوں میں چناؤ جیتنے کیلئے کسی بھی سیاسی پارٹی کو اکثریت حاصل کرنے کیلئے کم از کم 46 سیٹیں جیتنے کی ضرورت ہوگی اور ریاست پر کون سی سیاسی پارٹی اگلے پانچ سال کیلئے حکومت کرے گی اس کا فیصلہ آج دوپہر بعد ہوجائے گا۔ چھتیس گڑھ کو قبائلی اکثریت والی ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے اور ریاستی اسمبلی میں ایک تہائی سیٹیں درج فہرست ذاتوں کیلئے ریزرو ہیں۔ سیاسی ماہرین نے کہاکہ ریاست میں طاقت کس کو حاصل ہوگی اس کا فیصلہ انہیں سیٹوں سے ہوگا۔ چھتیس گڑھ میں مردوں کے مقابلے خواتین رائے دہندگان کی تعداد زیادہ ہے اور اس چناؤ میں بھی مردوں سے زیادہ خواتین ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔ اس سال ایک ہزار 181 امیدواروں سمیت 400 سے زیادہ آزاد امیدوار انتخابی میدان میں تھے۔ ان میں کانگریس لیڈر اور وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل، نائب وزیراعلیٰ ٹی ایس سنگھ دیو، بی جے پی کے سرکردہ لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ، اسمبلی اسپیکر چرن داس مہنت ایسے سرکردہ اور اہم امیدواروں میں شامل ہیں جن کی سیاسی قسمت کا فیصلہ آج ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ہوگا۔
تلنگانہ میں 119 اسمبلی حلقوں کے ووٹوں کی گنتی سخت حفاظتی بندوبست کے درمیان شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس، بی آر ایس اور بی جے پی سمیت تمام اہم پارٹیوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ وہ حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ سیٹیں حاصل کرلیں گی۔ بھارت کے چناو ¿ کمیشن نے ریاست بھر کے 49 مراکز پر ووٹوں کی گنتی کا بندوبست کیا ہے۔ ابتدا میں پوسٹل بیلٹ کی گنتی ہو رہی ہے۔ اس کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ووٹوں کی گنتی ہوگی۔
گزشتہ منگل کو ریاست میں ہوئی پولنگ میں تین کروڑ 26 لاکھ ووٹروں میں سے 71 اعشاریہ تین چار فیصد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ Munugode حلقے میں سب سے زیادہ 91 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے جبکہ حیدرآباد کے یاقوت پورہ حلقے میں سب سے کم 39 فیصد لوگوں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
ریاست میں سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ سب سے پہلے پوسٹ بیلٹ کے ووٹوں کی گنتی ہوگی اس کے بعد EVM ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی کیلئے کُل 49 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں ایک ہزار 798 میزوں پر دو ہزار 417 راو ¿نڈس میں گنتی ہوگی۔ شاد نگر میں سب سے کم 12 میزوں پر ووٹوں کی گنتی ہوگی جبکہ زیادہ تر مقامات پر جہاں امیدواروں کی تعداد زیادہ تھی وہاں زیادہ سے زیادہ 28 میزوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں بھدرا چلم میں سب سے کم 13 راو ¿نڈس میں ووٹوں کی گنتی ہوگی اور جوبلی ہلس اسمبلی حلقے میں سب سے زیادہ 26 راو ¿نڈس میں ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ حکام نے بتایاکہ ووٹوں کی گنتی کا پہلا رجحان تقریباً 10 بجے کے آس پاس آنے کی امید ہے۔
وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ دو حلقوں Kamareddy اور Gajwel سے انتخاب لڑا ہے جبکہ پردیش کانگریس صدر A Revanth Reddy کی نظر Kamareddy اور Kodangal سیٹوں پر ہے۔ بی جے پی کے E Rajender نے گجویل اور حضور آباد سے چناؤ لڑا ہے۔ بی آر ایس نے 2018 میں جس کا نام اس وقت تلنگانہ راشٹریہ سمیتی تھا، 119 میں سے 88 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ کانگریس کو 19 سیٹیں ملی تھیں جبکہ AIMIM کو سات اور بی جے پی کو ایک سیٹ ملی تھی۔ اس دوران خبر ہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان اس توقع میں ہے کہ پارٹی 119 رکنی ایوان میں سے بیشتر سیٹ جیت لے گی۔ کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیو کمار جیسے سینئر رہنماؤں کو حیدرآباد بھیج رہی ہے۔ اسی طرح بی آر ایس کے صدر اور وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ نے اپنے کابینی رفقا سے کہا ہے کہ پارٹی اپنا اقتدار برقرار رکھے گی۔



وہیں تلنگانہ میں معاملہ کچھ الگ ہے۔ یہاں کانگریس کی سونامی نے بی آر ایس کی کشتی کو ڈبو دیا ہے۔ اب تک کے رجحانات سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس 65 سے زیادہ نشستیں حاصل کرتے ہوئے تلنگانہ میں حکومت تشکیل دے گی۔


