اگر بیوی کی عمر 18 سال سے زائد ہے تو ازدواجی جنسی زیادتی (میریٹل ریپ) جرم نہیں: الہ آباد ہائی کورٹ

حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا ہے کہ اپنی بیوی کے خلاف ازدواجی جنسی دری (میریٹل ریپ) کرنے کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کے تحت جرم نہیں سمجھا جا سکتا، اگر بیوی کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو۔ عدالت نے اسی طرح کے ایک معاملہ کی سماعت کے دوران کہا کہ اس طرح ملزم کو آئی پی سی کی دفعہ 377 کے تحت مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، جسٹس رام منوہر نارائن مشرا کی بنچ نے کہاکہ ابھی تک ملک میں ازدواجی عصمت دری کو جرم قرار نہیں دیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ چونکہ ازدواجی عصمت دری کو مجرم قرار دینے کی درخواستیں ابھی تک سپریم کورٹ کے سامنے زیر التوا ہیں، اس لیے جب تک بیوی کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہو تب تک ازدواجی عصمت دری کے لیے کوئی مجرمانہ سزا نہیں ہے جب تک کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا قطعی فیصلہ نہ کرے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ایک سابقہ مشاہدے کی توثیق کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ ازدواجی تعلقات میں کسی بھی ‘غیر فطری جرم’ (دفعہ 377 آئی پی سی کے مطابق) کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے ایک فیصلہ کے دوران کہا ہے کہ اگر بیوی کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہے تو قانون کے تحت جبری ازدواجی تعلقات قائم کرنا جرم نہیں سمجھا جاسکتا۔

عدالت نے یہ ریمارکس کرتے ہوئے شوہر کو اپنی بیوی کے خلاف ’غیر فطری جرم‘ کرنے کے الزامات سے بری کردیا۔ کورٹ کے جسٹس رام منوہر نارائن مشرا نے کہا کہ اس معاملے کے ملزمان کو دفعہ 377 کے تحت قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

خاتون درخواست گذار نے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا کہ ان کی شادی ایک بدسلوکی کا رشتہ تھا اور شوہر نے مبینہ طور پر اسے زبانی و جسمانی استحصال اور جبر تشدد کا نشانہ بنایا جس میں جنسی زیادتی بھی شامل تھی۔ عدالت نے ظلم اور جان بوجھ کر نقصان پہنچانے سے متعلق دفعات کے تحت ملزم کو قصوروار ٹھہرایا جبکہ شوہر کو دفعہ 377 کے تحت الزامات سے بری کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں