پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے 141 ارکان کو معطل کردیا گیا، حزب ختلاف جماعتوں کا سخت ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز) آج پارلیمنٹ سے مزید 49 ارکان کو معطل کرنے کا فرمان جاری ہوگیا۔ اب تک اپوزیشن کے کل 141 ارکان کو پارلیمنٹ سے معطل کیا جاچکا ہے۔ معطل شدہ ارکان میں کئی سینئر رہنما بھی شامل ہیں۔ دراصل اپوزیشن پارلیمنٹ سیکوریٹی میں چوک معاملہ پر وزیراعلم اور وزیر داخلہ سے ایوان میں بیان دینے کا مطالبہ کررہا ہے۔

اپوزیشن کے مطابق ’جب وزیراعلظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ایوان کے باہر پارلیمنٹ کی سیکوریٹی پر بیان دے سکتے ہیں جبکہ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس جاری ہے تو پھر وہ ایوان میں اس معاملہ پر بیان کیوں نہیں دے رہے ہیں؟ اپوزیشن ارکان کی اتنی بڑی تعداد میں معطلی سے ملک بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملہ پر سخت ردعمل ظاہر کرکے مودی حکومت پر شدید تنقید کی۔ اپوزیشن ارکان نے معاملہ کو جمہوریت کا قتل سے تعبیر کیا ہے۔

لوک سبھا کی سکیورٹی میں رخنہ پڑنے اور اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کے معاملے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ آرائی آج بھی جاری رہی۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔ لوک سبھا میں دوسرے التوا کے بعد دن میں ساڑھے بارہ بجے جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، کانگریس، ترنمول کانگریس، DMK اور دیگر پارٹیوں کے ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ آج اپوزیشن کے مزید 49 ارکان پارلیمنٹ کو اُن کے غیرمناسب رویے کیلئے سرمائی اجلاس کے باقی دنوں کیلئے معطل کردیا گیا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال نے پلے کارڈ دکھانے اور ایوان کے ضابطوں کو نظرانداز کرنے کیلئے ارکان پارلیمنٹ کو معطل کرنے کی ایک تحریک پیش کی۔

معطل ارکان پارلیمنٹ میں کانگریس کے ششی تھرور اور منیش تیواری، NCP کی سپریاسولے، نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ، سماجوادی پارٹی کی ڈمپل یادو، TMC کے سُدیپ بندواپادھیائے اور جنتا دَل یو کے راجیو رنجن سنگھ شامل ہیں۔ بعد میں لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔ اس سے پہلے لوک سبھا کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی کی گئی تھی۔

لوک سبھا کی سکیورٹی میں رخنہ پڑنے اور ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کے معاملے پر لوک سبھا میں اپوزیشن کے ارکان نے ہنگامہ جاری رکھا۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے احتجاج کرنے والے ارکان سے بار بار کہا کہ وہ اپنی نشستوں پر جائیں لیکن انھوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ اسپیکر اوم برلا نے یقین دلایا کہ ایوان میں کام کاج ضابطوں کے تحت ہوگا۔

راجیہ سبھا میں بھی اِسی طرح کا منظر دیکھنے کو ملا۔ راجیہ سبھا کی کارروائی جب پہلی التوا کے بعد دن میں بارہ بجے شروع ہوئی، کانگریس، DMK، ٹی ایم سی، JDU، بائیں بازو اور دیگر پارٹیوں کے ارکان نے دو بارہ شور وغل کیا جس کے بعد ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں