حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش میں یوگی حکومت کے امن و امان کے دعوؤں کے برعکس ریاست میں غنڈہ گردی عروج پر دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ معاملہ میں کچھ بدمعاشوں نے ایک نابالغ مسلم طالب علم کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بری طرح مارپیٹ کی۔ طالب علم شدید طور پر زخمی ہوگیا۔ دراصل یہ خوفناک واقعہ 4 دسمبر کو پیش آیا لیکن اب اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انتظامیہ کی نیند کھلی۔
پولیس نے معاملہ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کارروائی شروع کردی۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بدمعاشوں کا گروپ ایک لڑکے کو بری طرح زدوکوب کررہا ہے اور اسے نیچے گراکر لاتوں سے مارا جارہا ہے۔ انڈیا ٹومارو کی رپورٹ کے مطابق بدمعاشوں نے پہلے مسل طالب علم کو اغوا کیا اور پھر اسے ایک سنسان مقام پر لے جاکر اسے بری طرح مارا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نابالغ لڑکا درد کی شدت سے چیخ و پکار کررہا ہے لیکن بدمعاش اس کے ساتھ لگاتار مارپیٹ کررہے ہیں۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایف آئی آر میں ملزمین کی شناخت نتن مدھیشیا، آدتیہ سنگھ، آرین سنگھ، ارجن، یوراج، چندن کے طور پر کی گئی جبکہ دیگر 4 نامعلوم افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزمان کے خلاف آئی پی سی 1860 کی دفعہ 147، 323، 504، 506، 342 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
طالب علم کے والد نے کہا کہ پہلے انتظامیہ کی جانب سے ایف آئی آر درج نہیں کی جا رہی تھی لیکن بعد میں مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ملزمین کی جانب سے ان پر کیس میں سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔


