ریونت ریڈی کی بطور وزیراعلیٰ ایک ماہ کے دوران کارکردگی کیسی رہی؟

حیدرآباد (دکن فائلز) ریونت ریڈی کو بطور چیف منسٹر ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے۔ ایک مہینہ بہت کم وقت ہوتا ہے لیکن وزیراعلیٰ نے اس دوران کئی اہم فیصلے کئے اور عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایک ماہ کے دوران انتظامیہ میں کئی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی تاکہ عوام کی موثر انداز میں خدمت کی جاسکے۔ عام عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کےلئے وزیراعلیٰ کوشاں ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ یہ کتنا کارگر ہوتا ہے۔

ریونت ریڈی نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد حیدرآباد کے پرانے شہر کی ترقی کےلئے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے ارکان اسمبلی کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا اور کئی اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ نے پرانے شہر میں میٹرو کے کاموں کا جلد آغاز کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ انہوں نے پرانے شہر کو دو میٹرو لائن سے جوڑنے کا حکام کو حکم دیا اور موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کےلئے بھی اعلیٰ عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔

تلنگانہ انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کے بعد ریونت ریڈی نے بطور وزیراعلیٰ 7 جنوری کو حلف لیا اور اقتدار سنبھالنے کے صرف 48 گھنٹوں میں کانگریس کی طرف سے دیے گئے چھ وعدوں میں سے دو کو پورا کرکے دکھادیا۔ انہوں نے مہالکشمی اسکیم کے تحت خواتین کےلئے آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت کی اسکیم کو ریاست بھر میں نافذ کیا اور آروگیہ شری کی حد کو بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دیا۔ انہوں نے پرگتی بھون کو پرجا بھون میں تبدیل کر دیا۔

پیپر لیک معاملہ میں TSPSC ک شبیہ متاثر ہوئی تھی، ریونت ریڈی نے اس ٹی ایس پی ایس سی کی کارکردگ کو بہتر بنانے کےلئے کئی اہم فیصلے لئے۔ انہوں نے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کےلئے اقدامات کئے اور دہلی میں یو پی ایس سی کے چیئرمین سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ نے متعدد آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے تبادلے کردیئے۔ انہوں نے تلنگانہ کو منشیات سے پاک بنانے کا عہد کیا اور اس کےلئے محکمہ پولیس کو ہدایت دی۔

وزیراعلیٰ نے ایک ماہ کے دوران دہلی کے متعدد دورے کئے اور پارٹی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کے علاوہ دیگر کئی مرکزی وزرا سے بھی ملاقات کی اور تلنگانہ کی ترقی میں تعاون کی گذارش کی۔ ریونت ریڈی نے 5 گیارنٹیوں کو لاگو کرنے کےلئے پرجاپالنا پروگرام کا آغاز 26 دسمبر سے شروع کیا جس کا کامیاب انعقاد کیا۔ اس دوران عوام کی جانب سے خاطر خواہ ردعمل ملا۔ تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ خاندانوں نے 5 گیارنٹیوں کےلئے درخواست فارم داخل کئے۔ اس پروگرام کا 6 جنوری کو اختتام ہوگیا لیکن حکومت نے اس پروگرام کو ہر چار ماہ میں ایک بار منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں