حیدرآباد (پریس ریلیز) جمعیۃ علماء ہند تلنگانہ وآندھرا کے زیراہتمام شمالی تلنگانہ کی ریاستی منتظمہ و وابستگان جمعیۃ علماء وخدام دین کا تربیتی اجلاســـــــــــــں مسجد نور مدرسہ مصباح الہدیٰ دفتر جمعیۃ علماء کاماریڈی پر بصدارت عمیدالعلماء حضرت مولانا مفتی محمد غیاث الدین صاحب رحمانی و قاسمی دامت برکاتہم صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھرا منعقد ہوا بحیثیت مہمان خصوصی جگر گوشہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید اسجد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند شریک ہوئے۔
مولانا سید اسجد مدنی نے اس موقع پر فکر انگیزوانتہائی ناصحانہ خطاب کرتے ہوے فرمایا کہ جمعیۃ علماء کے کارکنان کو چند بنیادی کام اور چند بنیادی چیزیں اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے، سب سے پہلی چیز اخلاص ہے اخلاص ہر عمل کی بنیاد ہے، اللہ رب العزت کو شرکت پسند نہیں اسی لیے اپنا ہر کام صرف اللہ کے لیے کریں، مسلمان کا چھوٹا سا عمل اللہ کے لئے کئے ہوا قابل قبول ہے جبکہ بہت زیادہ اور بڑا عمل بھی لوگوں کے لئے، دولت یا سیاست کےلیے یا دکھاوے کے لئے کیا جاے وہ اللہ کے دربار میں قبول نہیں ہوگا۔ اس لئے جو بھی کام کریں صرف اللہ کو راضی اور خوش کرنے کے لئے کیا جاے ، دوسری چیز استقامت ہے ہر فرد کو استقامت کا پہاڑ ہونا چاہیے، حالات جیسے بھی ہوں کتنے بھی سخت طوفان آئیں، مگر ہمیں ایمان پر دین پر اسلام پر قائم رہتے ہوے ملک وملت کی خدمت پر جمے رہنا ہوگا، تیسری چیز اتباع سنت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اطاعت نہیں کہہ رہا ہوں اتباع سنت کہہ رہا ہوں اطاعت اور اتباع میں فرق یہ ہے کہ اطاعت عام طور پر موقتی کیجاتی ہے، جبکہ اتباع 24 گھنٹے اور زندگی بھر کیجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر کارکن کو اتباع سنت کا خوگر ہونا چاہئے، اپنے ہر عمل کے اندر حضور اکرمﷺ کی پیاری سنتوں اور آپ کی اتباع کی فکر کرنی چاہیے، چوتھی چیز جس کا اہتمام ہم کو کرنا چاہیے وہ خدمت خلق، اللہ کے بندوں کی انسانیت کی بنیاد پرخدمت ہے۔ ملک کو ازاد کرانے سے پہلے اور بعد میں جمعیت علماء ہند کے اکابر کی بے شمار قربانیوں پر تفصیلی روشی ڈالتے ہوے کہاکہ ہمارے اکابر ملک کی خدمت کو بھی اخلاص سے کۓ ہمیں بھی اللہ کے لئے اللہ کے بندوں کی خدمت ہمارے اکابر کے طریقے پر کرنا چاہیے، انہوں نے فرمایا مدارس دینیہ کی بقاء واستحکام اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے یہ مدارس کا نظام خالص دینی رہے جبکہ عصری علوم کیلئے مستقل نظام ہو، دونوں کو خلط ملک نہ کیا جاۓ، اصول ہشتگانہ دارالعلوم دیوبند کے مطابق مدارس کو چلائیں عامۃ المسلمین کے چندہ سے دارالعلوم دیوبند کے نہج پر مدارس کو چلائیں ورنہ مدارس مدارس نہیں رہیں گے۔
مفتی محمود زبیر قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علماء نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ ودیگر اکابر جمعیت کی ملک وملت کے لئے کی گئی قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی جبکہ حضرت مولانا مفتی اعتمادالحق صاحب مدظلہ (نائب صدر ریاستی جمعیۃ علماء وصدر جمعیۃ علماء کریم نگر) نے محکمہ شرعیہ کی موجودہ دور میں ضرورت اور اسکی افادیت پر سیر حاصل خطاب کیا، حضرت مولانا فصیح الدین صاحب ندوی مدظلہ (ناظم اصلاح معاشرہ کمیٹی جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھرا) نے اصلاح معاشرہ پر تفصیلی خطاب فرمایا، خادم ملت حافظ محمد فہیم الدین منیری حفظہ اللہ (صدر جمعیۃ علماء کاماریڈی) نے جمعیۃ علماء کاماریڈی کی کارگردگی پیش کی۔
شمالی تلنگانہ کے اضلاع کے جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ صدور وذمہ داران کے علاوہ بطور خاص حافظ وسیم جاوید صاحب سٹی جمعیت علماء حیدرآباد وحافظ لئیق احمد خان صاحب زید مجدہ (صدر جمعیۃ علماء نظام آباد ونائب ناظم اصلاح معاشرہ کمیٹی Ts. & Ap) ومولانا غلام رسول صاحب (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد) حافظ محمد عبدالحکیم صاحب، حافظ عبدالسمیع صاحب (صدر جمعیۃ علماء سدی پیٹ) مولانا خلیل الرحمٰن صاحب (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء سدی پیٹ) مفتی محمد خواجہ شریف مظاہری صاحب (صدر جمعیۃ علماء میدک) حافظ شیخ محمد ندیم منہاجی صاحب (جنرل سکریٹری جمعیۃ میدک) حافظ شیخ عبداللہ صاحب (چیگنٹہ) حضرت جناب محمد انور صاحب دامت برکاتہم (ناظم مدرسہ دارالعلوم حلیمیہ نظام پیٹ) مولانا ابوالکلام صاحب (صدر جمعیۃ علماء سرسلہ) قاری مجاھد صدیقی صاحب (آرگنائزر سکریٹری جمعیۃ علماء سرسلہ) حافظ محمد احمد قریشی (نائب صدر جمعیۃ علماء سرسلہ) حافظ افروز صاحب (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء عادل آباد) مفتی کلیم الدین صاحب قاسمی (صدر جمعیۃ علماء متحدہ عادل آباد نرمل) مولانا عبدالعلیم فیصل قاسمی صاحب (متحدہ عادل آباد جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نرمل) حافظ عبدالرحمن حلیمی صاحب (صدر جمعیۃ علماء میڈچل ملکاجگری) جہانگیر صاحب (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء میڈچل ملکاجگری) حافظ کلیم صاحب (نائب صدر) شیخ اکبر صاحب (خازن) حافظ محمد وسیم صاحب (نائب صدر جمعیۃ علماء کریم نگر) مفتی فرقان صاحب قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء کریم نگر) مفتی مسعود صاحب (شرعی کونسل سدی پیٹ) مفتی اسمعیل صاحب قاسمی (سدی پیٹ) حافظ محمد عبدالکریم صاحب (صدر جمعیۃ علماء بانسواڑہ) حافظ محمد عبدالعلیم فاروقی صاحب (صدر جمعیۃ علماء حلقہ جوکل) مفتی عمربن عیسی صاحب، مفتی نوید صاحب (بانسواڑہ) کے علاوہ کاماریڈی ضلع کے تمام منڈلس وحلقوں کے جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ کارکنان خدام کی کثیر تعداد موجود تھی،
مفتی عمران خان قاسمی صاحب (صدر مقامی جمعیۃ علماء کاماریڈی) حافظ محمد یوسف حلیمی انور، مفتی محمد ریحان قاسمی (نائب صدر مقامی جمعیۃ) حافظ محمد عبدالواجد علی خان حلیمی، حافظ محمد مشتاق احمد نقشبندی، حافظ محمد تقی الدین منیری، حافظ محمد امتیاز کاشفی، حافظ مہتاب عالم، مولانا نظرالحق قاسمی، مولانا منظور احمد مظاہری، حافظ عبدالرازق، حافظ محمد عبدالحلیم نقشبندی، الحاج میر فاروق علی، الحاج سید عظمت علی، محمد عبدالقیوم، شیخ اسماعیل، محمد فیروز الدین، محمد سلیم الدین، محمد رفیع الدین، محمد ماجد اللہ، محمد معزاللہ، محمد جاوید علی، محمد ذاکر حسین، سید ذاکر حسین واراکین شوریٰ نے مہمانوں کا استقبال کیا، حافظ محمد جہانگیر حلیمی (خازن جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھرا) کی قرات کلام پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا، جبکہ معروف نعت خواں جناب احمد حسین ساگر صاحب نے حمد ونعت پڑھنے کی سعادت حاصل کی، مسجد نور کا نورانی ماحول انتہائی پر نور نظر آرہا تھا مسجد باوجود کشادگی کے اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کررہی تھی۔


