متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد سروے معاملہ میں سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ پر روک

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد میں سروے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے سروے کے لیے کمشنر کی تقرری سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی۔ لکھنؤ کی ایڈوکیٹ رنجنا اگنی ہوتری نے 2020 میں ایک عرضی دائر کرکے اتر پردیش کے متھرا میں واقع شاہی عیدگاہ مسجد کو کرشن کی جائے پیدائش قرار دینے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ یہاں مندر کو توڑ کر مسجد بنائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ مسجد کی 13.37 ایکڑ اراضی پر کٹرا کیشو دیو مندر واقع ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اق مقام پر ایک جیل بھی ہے جہاں کرشن کی پیدائش ہوئی تھی۔ وہیں مسلم گروپ نے ہندوؤں کی دلیل کو سرے کے خارج کردیا تھا۔ دائر درخواست کی مخالفت کی تھی۔

الہ آباد ہائی کورٹ نی شاہی عیدگاہ کے سروے کے لیے کورٹ کمشنر کی تقرری کا حکم دیا تھا جبکہ گذشتہ 14 دسمبر کو کورٹ نے شاہی عیدگاہ کمپلیکس کے سروے کو منظوری دی تھی جس کے بعد مسلم فریق نے سپریم کورٹ کاد روازہ کھٹکھٹایا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے مسلم فریق کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی سماعت ہائی کورٹ میں جاری رہے گی لیکن سروے پر کورٹ کمشنر کی تقرری پر عبوری روک لگادی۔

یاد رہے کہ شری کرشن براجمان اور 7 دیگر لوگوں نے الہ آباد ہائی کورٹ میں وکلاء ہری شنکر جین، وشنو شنکر جین، پربھاش پانڈے اور دیوکی نندن کے ذریعے درخواست پیش کرتے ہوئے شاہی عیدگاہ مسجد میں اے ایس آئی کے سروے کا مطالبہ کیا تھا۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شری کرشن کی جائے پیدائش مبینہ طور پر مسجد کے نیچے ہے اور اس میں بہت سی نشانیاں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ مسجد ایک ہندو مندر تھی!

اپنا تبصرہ بھیجیں