موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کےلئے ریونت ریڈی سنجیدہ، لندن کی تھیمز ندی کے طرز پر ترقی دینے کے اقدامات

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ نے لندن کی تھیمز ندی اتھارٹی کے عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے انتظامی امور کا مطالعہ کیا۔ ریونت ریڈی نے دورہ لندن کے دوران تھیمز ندی کا انتظام دیکھنے والے محکمہ پورٹ آف لندن اتھاریٹی کے عہدیداروں اور ماہرین کے ساتھ تین گھنٹے تک بات چیت کی۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے سے متعلق منصوبہ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے خاص طور پر موسیٰ ندی پراجکٹ کےلئے ہی لندن کا دورہ کیا ہے۔ ان کا مقصد تھیمز ندی کے انتظام کا مطالعہ کرنا ہے تاکہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کےلئے مناسب طریقہ کار مرتب کیا جاسکے۔

اس موقع پر کارپوریٹ امور کی ڈائریکٹر سیان فوسٹر اور پورٹ آف لندن اتھارٹی کے اسٹیک ہولڈر انگیجمنٹ کی سربراہ کیہل لیوی نے تھیمز ندی کے کنارے ترقیاتی سرگرمیوں، درپیش چیلنجز اور انجینئرنگ کمیونٹی کے مسائل کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اس موقع پر اسٹیک ہولڈر مینجمنٹ، سرمایہ کاری اور ریونیو مینجمنٹ کا جائزہ لیا۔

اس میٹنگ میں وزیراعلیٰ کے ساتھ اسپیشل سکریٹری بی اجیت ریڈی، حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے جوائنٹ کمشنرس اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ حیدرآباد شہر میں موسی ندی پر تقریباً سات پل ہیں۔ ان میں سب سے قدیم پل ’پرانا پل‘ ہے جسے ابراہیم قطب شاہ نے 1578 میں تعمیر کیا تھا۔ یہ پل ابھی تک زیر استعمال ہے۔ اس کے علاوہ موسیٰ ندی پر مسلم جنگ پل، نیا پل، چادرگھاٹ پل عنبرپیٹ پل، ناگول اپل پل و دیگر شامل ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق حیدرآباد شہر کے مضافات میں واقع صنعتی علاقوں سے خارج ہونے والا صنعتی فضلہ اور شہری آبادی کا تقریباً 350 ملین لیٹر سیوریج اور صنعتی فضلہ ہر روز موسی ندی میں ملتا ہے جس کی وجہ سے موسیٰ ندی ایک گندے نالے میں تبدیل ہوچکی ہے۔ کانگریس حکومت کی جانب سے اسے خوبصورت بنانے کےلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں