نلگنڈہ میں شرپسند عناصر کا ہنگامہ، وقف زمین پر مندر بنانے کی ناکام کوشش، مولانا احسان الدین کا پولیس سے بروقت رابطہ، امجد اللہ خان نے اشرار کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد سے صرف 80 کیلومیٹر دور نلگنڈہ ضلع کے نارکٹ پلی میں اتوار کی رات اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب کچھ شرپسند عناصر کا ہجوم ایک کھلے پلاٹ پر جمع ہوکر مبینہ طور پر ہنومان مندر بنانے کی کوشش کررہا تھا جبکہ تقریباً تین ہزار گز پر مشتمل یہ زمین وقف اراضی ہے جس کے تحت ایک مسجد ہے جو وقف جائیداد کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہنگامہ کے وقت کچھ لوگ مسجد میں نماز ادا کررہے تھے، انہوں نے مولانا احسان الدین صدر جمعیۃ علماء، نلگنڈہ سے رابط کیا، جس کے بعد مولانا احسان الدین اور مفتی صدیق نے نلگنڈہ ایس پی چندنا دیپتی کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ انہوں نےفوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے پولیس فورس کو موقع پر روانہ کیا۔ بعدازاں مسجد میں رکے نمازیوں کو دوسرے راستہ سے باہر لایا گیا۔

پولیس کے مطابق رام مندر کے افتتاح کے موقع پر کچھ تنظیموں سے وابستہ افراد مسجد کے قریبی مقام پر کیمپ لگاکر میٹھائی تقسیم کرنا چاہتے تھے تاہم حساس مقام ہونے کی وجہ سے انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد انہوں نے دھرنا دیا تاہم پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے انہیں وہاں سے منتشر کردیا۔

وہیں مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان خالد نے واقعہ کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر کے خلاف پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی، آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے غنڈہ عناصر ماحول کو خراب کرنا چاہتے تھے تاکہ کانگریس حکومت کو بدنام کیا جاسکے۔ انہوں نے شرپسندوں پر فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کی کوشش کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

امجد اللہ خان نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی سے اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ امجد اللہ خان آج مسجد سرائے میر جارہے تھے کہ انہیں راستہ میں چٹیال کے قریب روک لیا گیا۔ ایک اور اطلاع کے مطابق آج پولیس کے اعلیٰ حکام نے موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں