تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں شرانگیزی، سنگاریڈی اور نارائن پیٹ میں مساجد کے سامنے ہنگامہ، مسلمانوں کی املاک پر حملے، صدر مجلس کا پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ، خاطیوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

حیدرآباد (دکن فائلز) رام‌ مندر کی افتتاحی تقریب کے نام پر تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں اشرار کی جانب سے ننگا ناچ کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سنگاریڈی کے دولت آباد میں اشرار نے جے ایس آر کے نعرے لگاتے ہوئے ایک مسلم شخص کی دکان کو آگ لگادی اور دیگر مقامات پر مساجد کے سامنے شرانگیزی کی گئی۔ شرانگیز نعروں کے ساتھ ڈی جے پر دل آزار گانے بجائے گئے۔ اطلاع ملنے پر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی نے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے رابطہ قائم کیا اور خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ اسدالدین اویسی کے علاوہ مجلس کے دیگر ارکان اسمبلی نے رات دیر گئے تک حالات پر نظر بنائی رکھی اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے وہ برابر رابطہ میں تھے۔

تفصیلات کے مطابق سنگاریڈی کے دولت آباد میں 22 جنوری کی شام اشرار نے محمد غوث کی پھلوں کی دوکان پر حملہ کرکے اسے نذرآتش کردیا۔ یہ واقعہ اشرار کی جانب سے نکالے گئے جلوس کے دوران پیش آیا۔ جلوس کے دوران اچانک کچھ شرپسندوں نے غوث کی دوکان پر حملہ کردیا۔ قریب میں واقع ایک اور دوکان کو بھی اشرار نے نقصان پہنچایا۔

آج اشرار کے حوصلے اتنے بلند تھے کہ انہیں پولیس کا ذرا برابر بھی خوف نظر نہیں آیا۔ اطلاع کے مطابق نہ صرف اشرار نے محمد غوث پر حملہ کیا بلکہ انہیں جب علاج کےلئے ایمبولنس کے ذریعہ حیدرآباد منتقل کیا جارہا تھا تب سنگاریڈی سے پٹن چیرو تک کچھ غنڈوں نے ایمبولنس کا پیچھا کیا اور شرانگیز نعرے لگارہے تھے، ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ دوبارہ محمد غوث پر حملہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح سنگاریڈی کے مختلف علاقوں میں شرپسندوں کی جانب سے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔

ایک اور اطلاع کے مطابق کوسگی کوڑنگل میں بھی غنڈہ صفت عناصر نے مسجد کے سامنے شرانگیز نعرے لگائے اور ہنگامہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقامی افراد نے حالات کو پرامن رکھنے کےلئے اشرار کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی لیکن شرپسند عناصر حالات کو بگاڑنے کےلئے کوشاں تھے۔ بعدازاں مجلس کے رکن اسمبلی کوثر محی الدین نے نارائن پیٹ ایس پی سے رابطہ قائم کیا اور حالات سے واقف کروایا۔ ایس پی نے اشرار کے خلاف کاروائی کا تیقن دیا۔ وہیں کوثر محی الدین نے بتایا کہ تلنگانہ کے مختلف علاقوں خاص کر چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں اشرار کی جانب سے ماحول کو بگاڑنے اور مسلمانوں میں دہشت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد علاقوں سے کئی افراد نے ان سے رابطہ کیا اور شرانگیز کاروائیوں سے واقف کروایا۔ انہوں نے عوام سے صبر و تحمل سے رہنے کی اپیل کی۔

ایسا لگتا ہے کہ ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے ماحول بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کانگریس حکومت کو بدنام کیا جاسکے اور آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ہندو ووٹر کو پولورائز کرکے ناجائز و ناپاک سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں