عامر علی خان اور پروفیسر کودنڈا رام گورنر کوٹہ کے تحت ایم ایل سی نامزد

حیدرآباد (دکن فائلز) گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن نے پروفیسر کودنڈارام اور عامر علی خان کی بطور ایم ایل سی تقرری کو منظوری دے دی ہے۔ پروفیسر کودنڈارام اور عامر علی خان کو تلنگانہ گورنر کوٹہ کے تحت قانون ساز کونسل کا رکن نامزدکیا گیا ہے۔

پروفیسر کونڈا رام کا‌ شمار علحدہ تلنگانہ تحریک کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی (TJAC) کے چیرمین تھے اور تحریک کے دوران کئی بار جیل بھی جاچکے ہیں لیکن انہوں نے تلنگانہ کےلئے مسلسل جدوجہد کی۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران حیدرآباد میں ملین مارچ کے ذریعہ کانگریس کی مرکزی حکومت پر زبردست پریشر بنایا تھا۔

وہیں نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست عامر علی خان نے گذشتہ اسمبلی انتخابات میں کھل کر کانگریس کی تائید کی تھی اور بی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کو عوام کے سامنے لانے کی کامیاب کوشش کی تھی۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ روزنامہ سیاست کی خبروں کی وجہ سے گذشتہ انتخابات میں ریاست بھر کے مسلمانوں نے متحدہ طور پر کانگریس کو ووٹ دیا۔ روزنامہ سیاست کو نظریاتی طور پر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کی قیادت کے خلاف اور بیرسٹر اسدالدین اویسی و اکبرالدین اویسی کا کٹر مخالفت تصور کیا جاتا ہے۔ سلطان صلاح الدین اویسی کے دور سے ہی سیاست کی جانب سے مجلس کی خبروں کا بائیکاٹ کیا جاتا رہا ہے۔

اس بات کی بھی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ بہت جلد عامر علی خان کو ریونت ریڈی کی کابینہ میں شامل کیا جائے گا تاکہ پارلیمانی انتخابات سے قبل کانگریس حکومت کی کابینہ میں کسی مسلم چہرہ کی موجودگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ عامر علی خان کو قانون ساز کونسل کا رکن مقرر کرنے پر اردو والوں اور صحافیوں میں خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ عامر علی خان، روزنامہ سیاست کے ایڈیٹر جناب زاہد علی خان صاحب کے فرزند ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں