حیدرآباد (دکن فائلز) درسگاہ جہاد و شہادت کے ذمہ دار کی اطلاع کے مطابق آج دوپہر درسگاہ جہاد و شہادت کا ایک وفد نارکیٹ پلی کی مسجد سرائے میر پہنچا جہاں ظہر کی نماز ادا کی گئی۔ تاہم اس دوران درسگاہ جہاد و شہادت کے ارکان ایڈوکیٹ سیف اللہ خالد، ایڈوکیٹ محمد بن عمر اور محمد بشیر کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ انہیں چٹیال پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا اور آخری خبر ملنے تک تقریباً 8 بجے رات تک انہیں وہیں رکھا گیا۔
وہیں سیف اللہ خالد نے فون پر بتایا کہ درسگاہ جہاد و شہادت کا ایک وفد صرف حالات کا جائزہ لینے اور قانونی مشورہ کےلئے مسجد کا دورہ کرنا چاہتا تھا لیکن پولیس نے انہیں روک دیا۔ انہوں نے پولیس کی غیرضروری کاروائی اور رویہ پر احتجاج کیا۔
چٹیال پولیس کی جانب سے اس سلسلہ میں ابھی کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ کی کسی قسم کی کوئی کاروائی سے متعلق بتایا گیا۔
دوسری طرف درسگاہ جہاد و شہادت کے ذمہ داروں اور ارکان نے پولیس کاروائی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
واضح رہےکہ گذشتہ 21 جنوری کی شب کچھ شرپسندوں نے نارکیٹ پلی کی مسجد کی زمین پر ہنگامہ کیا تھا جبکہ یہ زمین وقف ریکارڈ میں ہے۔ بعدازاں پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے اشرار کو منتشر کردیا تھا۔


