حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹرا کے معروف مسلم عالم مولانا مفتی سلمان ازہری نے گجرات کے جوناگڑھ میں ایک جلسہ کے دوران مذہبی تقریر کی اور آخر میں ایک شعر پڑھا، ’کچھ دیر کی خاموشی ہے پھر شور آئے گا، ابھی کتوں کا وقت ہے ہمارا بھی دور آئے گا‘۔ صرف اس شعر کی وجہ سے ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے شور مچایا گیا جس پر پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے جلسہ کے آرگنائزرس اور مفتی سلمان ازہری کے خلاف مقدمہ درج کرکے تینوں کو گرفتار کرلیا۔
مولانا سلمان ازہری پولیس حراست میں لینےکے خلاف ملک بھر کے مسلمانوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مہاراشٹرا اور گجرات حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شعر میں کتے کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ ہندوتوا تنظیموں نے خود کو اس شعر میں کیوں فٹ کررہی ہے۔
لوگوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ہندتوا تنظیموں کے غلط پروپگنڈہ کے دباؤ میں آکر پولیس نے مسلم عالم کو ہی گرفتار کرلیا۔ وہیں ایک مسلم دانشور سمیع اللہ خان نے امت مسلمہ کو بغیر کسی فرقہ کی تقسیم کے مولانا سلمان ازہری کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی۔


