اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں حالات انتہائی کشیدہ، 4 ہلاکت 250 سے زائد زخمی، انٹرنیٹ سرویس معطل (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ایک مسجد اور مدرسہ کو سرکاری زمین بتاتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ مسمار کردیا گیا۔ جس کے بعد مسلمانوں نے جم کر احتجاج کیا اور علاقہ میں تشدد پھوٹ پڑا۔ اطلاعات کے مطابق کئی مقامات پر آتشزنی کی گئی اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

احتجاج کے دوران پولیس لاٹھی چارج اور پرتشدد واقعات کے دوران پولیس فائرنگ میں اب تک 4 افراد کے ہلاک اور دیگر 250 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ انتظامیہ نے بڑی تعداد میں سیکوریٹی فورس کو علاقہ میں طلب کرلیا ہے۔ آج جمعہ کے پیش نظر اتراکھنڈ اور اترپردیش میں سیکوریٹی کو سخت کردیا گیا۔ علاقہ میں تمام تعلیمی اداروں کو آج بند رکھا گیا۔

مسجد و مدرسہ کی مسماری کے بعد ہوئے شدید احتجاج کے بعد علاقہ میں انٹرنیٹ سرویس معطل کردی گئی۔ ہلدوانی تشدد کے حالات کا جائزہ لینے کےلئے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھانی نے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا اور عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

پولیس کے مطابق بنبھول پورہ میں تشدد کرنے والے افراد کی نشاندہی کرلی گئی، انہیں فوری گرفتار کرلیا جائے گا۔ فی الحال پورے علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔ وہیں مقامی لوگوں نے بڑے پیمانہ پر بے گناہ نوجوانوں کی امکانی گرفتاریوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں