#WATCH | Haldwani violence | DM Nainital, Vandana Singh says, "…After the HC's order action has been taken against encroachment at various places in Haldwani…Everyone was given notice and time for hearing…Some did approach the HC some were given time while some were not… pic.twitter.com/pO1K4BjN9C
— ANI (@ANI) February 9, 2024
حیدرآباد (دکن فائلز) اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ایک مسجد اور مدرسہ کو سرکاری زمین بتاتے ہوئے بلڈوزر کے ذریعہ مسمار کردیا گیا۔ جس کے بعد مسلمانوں نے جم کر احتجاج کیا اور علاقہ میں تشدد پھوٹ پڑا۔ اطلاعات کے مطابق کئی مقامات پر آتشزنی کی گئی اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔
‼️Miscreants from majority community are seen recording videos while abusing Muslims and damaging their property.
Please pray for peace and safety of Muslims.
#Haldwani #Uttrakhand pic.twitter.com/1mt45GoAui
— Mister J. – مسٹر جے (@Angryman_J) February 8, 2024
احتجاج کے دوران پولیس لاٹھی چارج اور پرتشدد واقعات کے دوران پولیس فائرنگ میں اب تک 4 افراد کے ہلاک اور دیگر 250 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ انتظامیہ نے بڑی تعداد میں سیکوریٹی فورس کو علاقہ میں طلب کرلیا ہے۔ آج جمعہ کے پیش نظر اتراکھنڈ اور اترپردیش میں سیکوریٹی کو سخت کردیا گیا۔ علاقہ میں تمام تعلیمی اداروں کو آج بند رکھا گیا۔
#Haldwani: Policemen misbehaved and dragged protesting Muslim women in #Haldwani after which the situation escalated.
Will the media show this visuals? pic.twitter.com/cAm3r2BcRV
— Saba Khan (@ItsKhan_Saba) February 9, 2024
مسجد و مدرسہ کی مسماری کے بعد ہوئے شدید احتجاج کے بعد علاقہ میں انٹرنیٹ سرویس معطل کردی گئی۔ ہلدوانی تشدد کے حالات کا جائزہ لینے کےلئے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھانی نے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا اور عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
Location: Haldwani, Uttarakhand
Constitutional system whose voice can be clearly heard while firing bullets on Muslims.#Haldwani #Uttrakhand pic.twitter.com/Cy9e62eigI
— Mr. Haque (@MrHaque_) February 8, 2024
پولیس کے مطابق بنبھول پورہ میں تشدد کرنے والے افراد کی نشاندہی کرلی گئی، انہیں فوری گرفتار کرلیا جائے گا۔ فی الحال پورے علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔ وہیں مقامی لوگوں نے بڑے پیمانہ پر بے گناہ نوجوانوں کی امکانی گرفتاریوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔


