حیدرآباد (دکن فائلز) آبپاشی پراجکٹس پر اسمبلی میں ریاستی وزیر اتم کمارریڈی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو ایوان نے اتفاق رائے سے منظوری دےدی۔ کرشنا پراجکٹس کو کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے حوالے نہ کرنے کیلئے یہ قرارداد پیش کی گئی تھی جسے منظور کئے جانے کا اسپیکر جی پرساد کمار نے اعلان کیا۔
قبل ازیں وزیر آبپاشی اتم کمارریڈی نے اسمبلی میں کرشنا پانی کی تقسیم کے معاملہ پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ ایوان کو تفصیلات سے واقف کروایا۔ قرارداد پر سیر حاصل بحث ہوئی جس کے بعد ایوان کی کارروائی منگل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔ اتم کمارریڈی نے بتایاکہ 13 تاریخ کو کالیشورم پراجکٹ کے معائنہ کیلئے وہ ارکان کو دعوت دے رہے ہیں ۔ اِس سلسلہ میں ارکان کو مکتوب روانہ کردیا گیا ہے۔ اُنہوں نے اسے شخصی دعوت نامہ تصور کرتے ہوئے اس معائنہ کیلئے آنے کی خواہش کی۔
کرشنا ندی کے پانی کی تقسیم اور اُس پر بنائے گئے پراجکٹس پر کوئی بھی سمجھوتہ کرنے سے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے انکار کردیا ہے۔ اسمبلی میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اُنہوں نے کہاکہ کرشنا ندی پر پراجکٹس کے آر ایم بی کے حوالے نہیں کیاجائے گا۔ قرارداد پر اسمبلی میں گرما گرم مباحث ہوئے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ جنوبی تلنگانہ کے اضلاع محبوب نگر، رنگاریڈی،نلگنڈہ اور کھمم کے عوام کرشنا ندی کے پانی پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ کرشنا ندی کے پانی پر بحث ہورہی ہے اور اپوزیشن لیڈر اسمبلی میں موجود نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ کرشنا ندی کے بہاؤٌ کے علاقہ کے لحاظ سے ندی کا 68 فیصد پانی ریاست کو حاصل ہونا چاہئے۔
کرشنا ندی پر بنائے گئے پراجکٹس کو مرکز کے حوالے نہ کرنے حکومت کی قرارداد کا بی آر ایس رکن ہریش راؤ نے خیر مقدم کیا۔ اُنہوں نے کہاکہ اُن کی پارٹی اس قرارداد کی مکمل تائید کرتی ہے۔ تاہم اُنہوں نے کہاکہ کرشنا پانی کی تقسیم کے تعلق سے سابقہ حکومت پر غلط الزامات لگائے جارہے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے کہ سابقہ حکومت نے پراجکٹس کی حوالگی پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔
قائد مقننہ مجلس پارٹی اکبرالدین اویسی نےحکومت کی جانب سے کرشنا آبی پراجکٹس کی حوالگی کے خلاف قرارداد کا خیر مقدم کیا۔ اُنہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں اعلامیہ کی اجرائی پر تشویش ظاہر کی اور حکومت سے جاننا چاہاکہ کرشنا ندی پر تلنگانہ حکومت کی جانب سے کتنے پراجکٹس تعمیر کئے گئے ہیں، کتنے زیر التوا ہیں۔


