ہلدوانی تشدد کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات: اسکولوں کو ڈیٹنشن سنٹرس بنایا گیا، بڑی تعداد میں لوگوں کو ڈیٹین کیا گیا، خواتین اور بچوں کے ساتھ مارپیٹ و گالی گلوج کی گئی۔۔۔

حیدرآباد (دکن فائلز) ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس، کاروانِ محبت اور سماجی کارکن زاہد قادری پر مشتمل ایک ٹیم نے ہلدوانی کا دورہ کرکے تازہ ترین صورتحال کے علاوہ پرتشدد واقعات سے متعلق جانکاری حاصل کی۔ سٹیزن فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے 14 فروری 2024 کو ہلدوانی کا دورہ کرکے پرتشدد واقعات کی حقیقات جاننے کی کوشش کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ مقامی سول سوسائٹی کے ارکان، صحافیوں، ادیبوں، وکلاء اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے چند متاثرہ افراد کے ساتھ کی گئی بات چیت پر مبنی ہے جس میں تشویشناک تفصیلات کا انکشاف کیا گیا ہے۔

آج دہلی کے پریس کلب اف انڈیا میں ہلدوانی تشدد پر ’فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ‘ کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ پریس کانفرنس سے ساق چیف انفارمیشن کمشنر آف انڈیا وجاہت حبیب اللہ، سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، سماجی کارکن نوشرن کور، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن اف سیول رائٹس کے نیشنل سیکرٹری ندیم خان و دیگر نے خطاب کیا۔ رپورٹ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے صرف 28 افراد کی گرفتاری بتائی جارہی ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ لوگوں کو ڈیٹین (حراست میں لیا گیا) کیا گیا۔ تشدد کے بعد پولیس کی جانب سے 300 سے زائد مکانات پر چھاپے مارے گئے اور گھروں میں گھس کو خواتین و بچوں کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور توڑ پھوڑ کا بھی الزام عائد کیا گیا۔ پولیس کاروائی میں متعدد خواتین اور بچوں کے شدید زخمی ہونے اور بڑے پیمانہ پر گھریلو اشیا کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ خواتین کے ساتھ نہ صرف نازییا زبان استعمال کی گئی بلکہ انہیں مارا پیٹا گیا، گھسیٹا گیا اور ان کے ساتھ گالی گلوج کی گئی۔

رپورٹ میں ریاستی حکومت، اعلیٰ عہدیداروں اور میڈیا کے رویہ پر بھی سوال اٹھائے گئے اور مسجد و مدرسہ کے خلاف بلڈوزر کاروائی کی مذمت کی گئی۔ معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہونے کے باوجود بلڈوزر کاروائی کی گئی اور مقامی لوگوں کے اعتراض کے بعد پولیس نے خواتین کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا جس کے بعد لوگ مشتعل ہوگئے۔ دونوں طرف سے پتھر بازی میں متعدد لوگ زخمی ہوگئے۔

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے انتہائی حیرت انگیز انکشافات کئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو ڈیٹینشن سنٹر میں رکھا گیا۔ علاقہ میں اسکولس کو ڈیٹینشن سنٹر بنادیا گیا اور یہاں لوگوں کو رکھ کر پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ ایک ایف آئی آر میں پانچ ہزار نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، اس لحاظ سے ابھی تک گرفتاریوں کی تعداد کم بتائی جارہی ہے لیکن ڈیٹین (حراست میں لئے گئے) کیے گئے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس (اے پی سی آر)، کاروانِ محبت اور سماجی کارکن زاہد قادری پر مشتمل ایک ٹیم نے ہلدوانی کا دورہ کرکے تازہ ترین صورتحال کے علاوہ پرتشدد واقعات سے متعلق جانکاری حاصل کی۔ سٹیزن فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے 14 فروری 2024 کو ہلدوانی کا دورہ کرکے پرتشدد واقعات کی حقیقات جاننے کی کوشش کی۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ مقامی سول سوسائٹی کے ارکان، صحافیوں، ادیبوں، وکلاء اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے چند متاثرہ افراد کے ساتھ کی گئی بات چیت پر مبنی ہے جس میں تشویشناک تفصیلات کا انکشاف کیا گیا ہے۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 8 فروری 2024 کو بنبھول پورہ، ہلدوانی میں پرتشدد واقعہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ یہ حالیہ برسوں میں اتراکھنڈ میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں مسلسل اضافے کا نتیجہ تھا۔ وزیر اعلیٰ پشکر دھامی کی زیرقیادت ریاستی حکومت میں بنیاد پرست تنظیموں کی جانب سے بھڑکاؤں بیانات دیئے گئے تھے، جس میں دیگر مذہبی اقلیتوں کو چھوڑ کر اتراکھنڈ کو ہندوؤں کے لیے ایک مقدس سرزمین بنانا شامل ہے۔ خاص طور سے مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے مسلمانوں کے معاشی اور سماجی بائیکاٹ اور بے دخلی کی دھمکیوں نے نفرت انگیز ماحول کو پروان چڑھایا۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کبھی لو جہاد کے نام پر تو کبھی لینڈ جہاد اور کبھی کاروبار جہاد یا پھر مزار جہاد کے نام پر چلائی گئی اور مسلمانوں کے معاشی اور سماجی بائیکاٹ کی کال دی گئی۔ مسلمانوں کو گھروں اور دکانوں سے بے دخل کرنا اور انہیں ریاست چھوڑنے کی دھمی دی گئی۔ وہیں خود وزیراعلیٰ نے متعدد بار اس طرح کی کاروائیوں کی تائید میں کھڑے دکھائی دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت لو جہاد و دیگر تمام جہاد کی شکلوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے گی۔ انہوں نے 3000 مزاروں کی مسماری کو ان کی حکومت کا کارنامہ قرار دیا۔ وہیں جنگلات اور نازول زمینوں پر غیر مجاز ہندو مذہبی ڈھانچوں کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی۔ حالیہ تشدد کا فوری محرک صوفیہ ملک کی جانب سے دعویٰ کردہ تقریباً 6 ایکڑ اراضی کی متنازعہ ملکیت تھی، جس کے بارے میں ریاستی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نازول زمین ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں