عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ شفاعت مصطفیٰﷺ کا بہترین ذریعہ، مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کے تاریخی جلسہ سے محمد شاہ جمال الرحمن مفتاحی، مولانا پی ایم مزمل رشادی و دیگر علمائے کرام کے ایمان افروز خطاب

حیدرآباد (پریس نوٹ) عقائد، مسائل اور فضائل پورا اسلام ان تین بنیادوں پر منحصر ہے، جہاں یہ تین جمع ہوجائیں، وہاں اسلام بنتا ہے، عقائد صحیح ہے تو مسائل مقبول ہیں، ورنہ مسائل کتنے بھی اچھے ہوں اللہ کے دربار میں غیرمقبول ہیں، عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کرنے سے نجات ملتی ہے، اور شفاعت نبی ﷺ مقدر ہوگی، ختم نبوت کا کام کرنے والے بے شمار لوگوں کو خواب میں رسول ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی، دنیا میں زیارت مصطفیٰ ﷺ اور آخرت میں شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ کا شرف حاصل ہوگا، نیز ایسے لوگوں کے لئے جنت یقینی ہے، آج کے اس پرفتن دور میں ختم نبوت کی تحریک سے وابستہ ہونا فرض کا درجہ رکھتا ہے، چاہے آپ کسی بھی جماعت پارٹی سے منسلک کیوں نہ ہوں، ایمان کی اس عظیم تحریک ختم نبوت سے وابستہ ہوجائیں، مولانا پی یم مزمل صاحب والا جاہی نے بحیثیت مہمان خصوصی کاماریڈی میں تحفظ ختم نبوت کے عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔

مفتی سعید اکبر نقشبندی نے فرمایا کہ مسلمان سب سے زیادہ محبت اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے کرتے ہیں، مسلمان کبھی بھی اپنے آقاﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا، لہذا اسلام دشمن فتنوں سے محفوظ رہنے اور عام مسلمانوں کا ایمان عقیدہ بچانے کے لئے خصوصی محنت کے ساتھ درود شریف کی کثرت کریں، مسلمان میں سرفروشی اور جانثاری کا وہ لافانی جذبہ ہے، جس سے باطل ہمیشہ لرزاں رہتا ہے، اسلام دشمن قوتیں اس امر سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ حضورﷺ کی ناموس کی بات آجائے تو مسلمان کے نزدیک جان جیسی متاعِ عزیز بھی بے معنی اور بے حقیقت ہوکر رہ جاتی ہے، محمدﷺ پوری کائنات کے نبی ہیں، مفتی صاحب نے لوگوں سے فرمایا کہ اپنے بچوں کو سیرت سکھائیں، سیرت سے محبت پیدا ہوتی ہے، تعلیماتِ نبویہ پر عمل کرنا اور اسے پھیلانا چاہئے، آج پوری دنیا میں جہالت گمراہیاں اور فسادات اسی وجہ سے ہیں کہ ہم نے تعلیماتِ نبویہ سے کو چھوڑ دیا ہے، ختم نبوت کا کام کرنا شفاعتِ نبی ﷺ کو حاصل کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔

مولانا وجیہ الدین قاسمی نے عقیدۂ ختم نبوت پر تفصیلی اور مدلل بات کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اللہ نے ختم نبوت کا تاج حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو پہنایا ہے، قیامت تک آپﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، اسی کا نام عقیدۂ ختم نبوت ہے، مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے دور نبوت میں جھوٹی نبوت کا دعوی کیا، جس پر رسول اللہﷺ اور صحابہؓ نے ان کی چھوٹی نبوت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرکے امت کو بچانے کا سر مایہ ہمارے لیے فراہم کیا، قیامت تک جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوں گے، فرمان نبوی ﷺ ہیکہ قیامت تک میں ہی آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

حضرت شاہ جمال الرحمن صاحب مفتاحی امیر شریعت تلنگانہ وآندھرا نے صدراتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی وحدانیت کو ماننا، نبی رسول اللہﷺ کی رسالت کو تسلیم کرنا، قرآن کو اللہ کی کتاب سمجھنا اس دنیا کی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے، جس کو حیات اخروی کہتے ہیں، اس کو ماننا یہ دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے، ایمان والے کے لئے اللہ نے انعام کے طور پر جو نعمتیں آخرت والی زندگی میں ررکھیں ہے، وہ اس دنیا میں جو کچھ ہے، جتنا ہے، اس سے 10 گنا بڑی ہے، اس لیے سب سے زیادہ قیمتی چیز ایمان ہے، آج لوگوں نے اس کی اہمیت کو بھلا رکھا ہے، بے دینی، بے ایمانی کا شکار ہوگئے، دنیاوی وقتی فائدے کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کامیابی کو بھلا بیٹھے ہیں، اس لیے اس طرح کے جلسے یہ سمجھانے کے لیے ہوتے ہیں، جس کو اللہ نے رسول اللہ کے ذریعے لوگوں کو عطاء فرمایا ہے، اور جس کو آپﷺ لے کر ہمارے پاس آئیں ہیں، ان میں سے ہر ہر چیز کو سوفیصد ماننے کا نام ایمان ہے، اس بات کا یقین ہو کہ جو کچھ بھی آپ نے بیان کیا اور قرآن میں آیا، وہ سب کا سب صحیح ہے، اس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا، چونکہ یہ ایمان دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ تھا، اس لیے جتنے دشمنانِ اسلام ہیں، انہوں نے ایسی محنتیں شروع کیں کہ اس کے نتیجہ میں لوگوں کا ایمان خراب ہوگیا، ایمان خراب ہوتا ہے، عقیدہ کی خرابی سے، لوگ قرآن وحدیث کو نہیں جاننے کی وجہ سے ان نئے نئے فتنوں میں مبتلا ہوکر ایمان سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کے بہت سے شعبے ہیں، ان میں سے ایک شعبہ ہے، تحفظ عقیدۂ ختم نبوت، یعنی اس عقیدے کی حفاظت کرنا کہ میرے اور آپ کے آقا اولین و آخرین کے سردار انبیاء و رسل کے امام، خاتم النبیینﷺ اور اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، قرآن کریم کی کسی ایک آیت کا انکار کرنا بھی آدمی کو ایمان سے خارج کر دیتا ہے، لیکن آج لوگ جہاں بہت سے پہلوؤں سے حملہ آور ہیں، ان میں سے ایک ختم نبوت کا مسئلہ بھی ہے، ہزارہاں لوگوں نے اس غلط پروپیگنڈے کو قبول کرلیا کہ سلسلۂ نبوت ابھی بھی جاری ہے، اور بعض دعویددارانِ نبوت کی نبوت کو تسلیم بھی کر لیا اور انہیں اندازہ نہیں ہے کہ اس طرح سے انہوں نے پورے دین ہی کو گویا چھوڑ دیا، اس واسطے کے پورا کا پورا دین اسی سے وابستہ ہے، آج ضرورت ہے کہ مسلمان چوکنا رہیں، اور متوجہ رہے کہ میرے مال کا نقصان مجھے برداشت ہوسکتا ہے، میرے مکان دکان کا نقصان میرے لیے قابل برداشت ہوسکتا ہے، میری جائیداد کا نقصان میرے لیے قابل برداشت ہوسکتا ہے، مجھے جسمانی تکلیفوں کا پہنچنا قابل تحمل ہوسکتا ہے، لیکن میرے لیے یہ بات قابل برداشت بالکل نہیں ہے کہ میرے دین، ایمان پر حملہ ہو، میرے عقیدے قرآن و سنت پر حملہ ہوجائے یہ چیز برداشت نہیں ہوسکتی، آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ سب سے زیادہ قربانیاں حضرات صحابہؓ کرام نے جس مسئلہ کی حفاظت میں دی ہے، وہ یہی مسئلہ تھا کہ جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوی کیا تو اس قتال میں سب سے زیادہ جانی قربانیاں صحابہؓ کرام نے دیں، حالانکہ اس سے پہلے بڑی بڑی جنگیں ہوئیں، لیکن اس میں ان کا اتنا نقصان نہیں ہوا۔

مولانا نے کہا کہ ان کی جانوں کا جتنا اس مسئلہ کی حفاظت سے متعلق ہوا ہے، اسی لیے یاد رکھئے کہ اگر ایمان کو محفوظ رکھنا ہے تو صحیح عقیدہ کو اپنائیں، اسی کا نام ایمان ہے، اور جب تک کہ ہم صحیح عقیدہ کیا ہے، معلوم نہیں کرین گے، اپنے ایمان کو محفوظ رکھنا مشکل ہوجائے گا، آج کوئی اہتمام نہیں ہے کہ میرا عقیدہ صحیح ہے یا نہیں، ہم نہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے، نہ احادیث مبارکہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، نہ نبی رحمتﷺ کے اسوہ حسنہ اور مبارک زندگی کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں، جب صحیح کیا ہے یہی معلوم نہیں کریں گے، تو پھر جو جس طرح بلائے گا اس کی دعوت پر لبیک کہنا شروع کر دیں گے، کوئی اٹھ رہا ہے نبوت کا دعوی کررہا ہے، کوئی اٹھ رہا ہے مہدی ہونے کا دعوی کررہا ہے، اور کوئی اٹھ رہا ہے اور یوں کہہ رہا ہے کہ ہمارے شیخ نے جو کہہ دیا وہی قران ہے، وہی حدیث ہے، اس کے علاوہ ہم کو کسی نئے حکم کو سننے کی جاننے کی ضرورت ہی نہیں، اس میں اس درجے گروہ بندیاں ہوگئیں کہ اس وقت میں ان گروہ بندیوں کے نتیجہ میں مسلمانوں میں جو کمزوریاں آئیں وہ اس درجے زیادہ ہیں کہ تمام دشمنانِ اسلام کے واسطے راستہ کھل گیا، اور یہ سینکڑوں برس پرانی دنیا پرستوں کی پالیسی رہی ہے تو مسلمانوں میں پھوٹ ڈالو، ان میں اختلاف اور انتشار پیدا کرتے رہو، یہ آپس میں ایک دوسرے کی مخالفتوں میں اور دشمنیوں میں لگے رہیں، تب کہیں جاکر ہی ہم اپنے منصوبے میں کامیاب ہوسکتے ہیں، اس لئے مسلمانوں کو اپنے اندر ایمانی قوت کے ساتھ اسلامی تشخص کی برقراری اور ایک دوسرے کے احترام کرتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

حافظ محمد فہیم الدین منیری حفظہ اللہ خادم مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی نے مجلس تحفظ ختم کے قیام کے پس منظر پر تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کے قریب ایک موضع میں آبائی قادیانی عرصہ دراز سے رہ رہے تھے، عام مسلمانوں نے قادیانی فتنہ کی سنگینی سے ناواقفیت کی بناء پر ان سے رشتہ داری اور دوستانہ تعلقات اور انکے مذہبی رسومات میں بھی شرکت کیا کرتے تھے، اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں کے سرکردہ لوگوں نے کاماریڈی میں قادیانی معلمین کا تقرر کیا، جو اطراف و اکناف دور دراز کے علاقوں میں جاتے اور مسلمانوں کو تعلیم اور تعمیر مسجد ودیگر لالچ دیکر اپنے چنگل میں لینے کی ناپاک کوشش کرتے، چنانچہ یکے بعد دیگرے تقریباً 24 دیہاتوں کو قادیانیوں نے اپنی ناپاک سازشوں کا نشانہ بنایا، اللہ کے خاص فضل وکرم سے کاماریڈی کے چند غیور عاشقانِ رسول اکرمﷺ نے حضرت مولانا ابرارالحسن رحمانی وقاسمی دامت برکاتہم کے مجاہدانہ قیادت و سیادت میں شب وروز ایک ایک کرکے تمام دیہاتوں سے قادیانیوں کی ناپاک قدم کو اکھڑنے پر مجبور کیا، آج اللہ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان کہ وہ تمام مقامات جہاں مسلمان اذان و نماز اور قرآن کی تعلیم کیلئے ترستے تھے، ایسے مقامات کے بشمول 90 دیہاتوں میں 71 معلمین کرام مجاہدانہ زندگی بسر کرتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت، دین واسلام کی نشرو اشاعت کا کام بہت سلیقے سے کررہے ہیں، مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کے زیراہتمام تعمیر مساجد کا سلسلہ جاری ہے، اہل خیر کو نہ صرف مکمل مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے کی ضرورت ہے، بلکہ ضروریات مسجد جائے نماز، پنکھا، کولر مائیک سیٹ کے علاوہ معلمین کرام کی رہائش گاہ کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی سخت ضرورت ہے،

مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی اپنے معاونین سے تعاون حاصل کرتے ہوئے ماہانہ تقریباً 3 لاکھ روپئے ان معلمین کرام کو بطورِ وظیفہ دے رہی ہے، ہم تمام خدام وکارکنان اور تمام احباب سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے تعاون میں اضافہ کریں، تاکہ معلمین کرام کو بروقت خاطر خواہ وظیفہ دیا جاسکے، مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی میں مختلف خیالات کے لوگ شریک ہیں، اور مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام کسی ایک جماعت یا پارٹی کا کام نہیں، بلکہ ان تمام مسلمانوں کا کام ہے، جن کے دل میں عشقِ نبیﷺ سب سے زیادہ ہے، یہ تنظیم نہیں بلکہ تحریک ہے، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی جانوں کو نچھاور کرکے ختم نبوت کی حفاظت کا کام کیا ہے، مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی کے زیراہتمام MR گراؤنڈ کالونی مسجد نور روڈ کاماریڈی میں عظیم الشان تاریخ ساز جلسہ عام کا آغاز حافظ محمدعبدالرحمن حلیمی ناظم ادارہ منیرالاسلام حیدرآباد کی قرأت کلام پاک سے ہوا، مقبول نعت گو شاعر احمد حسین ساگر و حافظ علیم الدین نے ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی، جبکہ طلباء کرام نے عقیدۂ ختم نبوت اور اسلامی معلومات پر دلچسپ تعلیمی مظاہرہ پیش کیا۔

جلسہ کی نگرانی محترم جناب الحاج محمد انور (مجاز صحبت حضرت مولانا الشاہ منیر احمد صاحب دامت برکاتہم کالینا ممبئی) نے کی، نیز مولانا سعید احمد صاحب سندھیلوی نائب صدر مجلس نے افتتاحی کلمات پیش کئے، مولانا نظرالحق قاسمی نے استقبالیہ خطبہ میں تمام مہمانوں کا استقبال کیا، محمد جاوید علی رکن تاسیسی، محمد عبدالواجد علی خازن مجلس، محمد ماجد اللہ، محمد معز اللہ، میر فاروق علی، سید مبشر علی عامر، محمد سلیم الدین، الحاج مقصود احمد ایڈوکیٹ، محمد فیروز الدین اور دیگر اراکین نے مہمانوں کا استقبال کیا، شہ نشین پر حافظ شیج جہانگیر فیضی خازن جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا، مولانا نواز احمد حسامی میڈپلی، مولانا عاصم اسعدی توپران، مفتی صابر قاسمی میدک، مفتی عمران خان قاسمی، مفتی عرفان زم زم قاسمی، حافظ محمد عبدالواجد حلیمی، مولانا منظور عالم مظاہری کے علاوہ عبداللہ بن حسن الجہوشی صدر جامع مسجد مرکز موجود تھے، MR کالونی کا گراؤنڈ باوجود کشادگی تنگ دامنی کا شکوہ کر رہا تھا، رات دیر گئے مکمل انہماک اور دلچسپی سے سامعین نے جلسہ کو سنا، مولانا پی ایم مزمل رشادی مدظلہ کی خصوصی دعاء پر اجلاس بحمدللہ اختتام پذیر ہوا، واضح رہے کہ مفتی محمد خواجہ شریف مظاہری نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں