حیدرآباد کے پرانے شہر اور یہاں کے لوگوں پر انتہائی گھناؤنے و بے بنیاد الزامات، بی جے پی امیدوار مادھوی لتا کے بیان پر عوام کا سخت ردعمل (نفرت انگیز بیان کا ویڈیو ضرور دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے پرانے شہر اور یہاں آباد لوگوں کو ’کوسنا‘ بی جے پی لیڈروں کی عادت بن چکی ہے۔ بی جے پی کے متعدد لیڈر صرف اور صرف سستی شہرت کے لئے کبھی پرانے شہر کو دہشت گردوں کا اڈہ تو کبھی انتہائی غلیظ علاقہ قرار دیتے ہیں۔ قبل ازیں انتخابات کے دوران زعفرانی پارٹی کے ایک متنازعہ لیڈر نے تو پرانے شہر پر ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کرنے کی بات تک کہدی تھی۔

اب تازہ طور پر لوک سبھا انتخابات کےلئے حیدرآباد حلقہ سے بی جے پی امیدوار محترمہ مادھوی لتا نے اپنے نام کے اعلان کے ساتھ ہی پرانے شہر کو کوسنا اور یہاں کے لوگوں پر انتہائی گھناؤنے الزامات عائد کرنا شروع کردیئے ہیں۔

محترمہ مادھوی لتا نے پرانے شہر کا صومالیہ سے موازنہ کرتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو انتہائی ان پڑھو و جاہل قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی پر تنقید کرتے کرتے پرانے شہر اور یہاں کے لوگوں کو بُرا بھلا کہنا شروع کردیا۔

اے این آئی کو دیئے گئے بیان میں انہوں نے بتایا کہ یہاں کے مدرسوں میں بچوں کو کھانا نہیں ملتا ہے جبکہ یہ انتہائی غلط الزام ہے۔ پرانے شہر کے دینی مدارس کو ملک بھر کے مدرسوں کے مقابلہ میں کافی ترقی یافتہ قرار دیا جاتا ہے، یہاں کے بعض مدارس میں تو کارپوریٹ ہاسٹلس سے بھی بہتر انتظام ہے۔

انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کو بڑھانے کےلئے پرانے شہر کے لوگوں پر ایک اور انتہائی گھناؤنا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مندروں اور ہندوؤں کے گھروں پر قبضہ ہوجاتا ہے جبکہ حقیقیت اس کے بالکل الٹی ہے، پرانے شہر میں کئی وقف اراضیات پر قبضہ کرنے کے الزام میں غیرمسلم افراد کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں۔ انہوں نے پرانے شہر کے لوگوں پر لڑائی جھگڑے کا بھی الزام عائد کیا جو انتہائی بے بنیاد ہے۔ پرانا شہر گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ ہے۔ یہاں ہر مذہب اور ہر علاقے کے لوگ آباد ہیں اور وہ مل جل کر ملک کی ترقی کےلئے کام کررہے ہیں، لیکن بی جے پی کے متعدد لیڈر اپنی اوچھی سیاست کےلئے پرانے شہر کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کرتے رہتے ہیں۔

مادھوی لتا کے بیان پر بلالحاظ مذہب و ملت پرانے شہر کے عوام نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ان کے الزامات کو انتہائی گھناؤنا و بے بنیاد قرار دیا۔ عوام نے کہا کہ مادھوی لتا کو موجودہ رکن پارلیمنٹ کی ناکامیوں کو بتاتے ہوئے شہر کی ترقی کےلئے ان کے منصوبوں پر بات کرنی چاہئے تھی، لیکن انہوں نے پرانے شہر اور یہاں کے لوگوں پر بے بنیاد الزامات عائد کرکے یہاں کی پرامن فضا کو مکدر کرنے کی کوشش کی تاکہ نفرت کی سیاست کرکے ووٹ بٹورے جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں