چنگی چڑلہ میں 4 روز سے حالات کشیدہ، دورہ کے نام پر بی جے پی لیڈروں کا ہنگامہ، متعدد مسلم نوجوانوں کے خلاف سخت دفعات کے تحت مقدمات درج، پولیس پر یکطرفہ کاروائی کا الزام

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ بی جے پی کے سابق صدر بنڈی سنجے کے خلاف میڈی پلی پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کیا گیا ہے۔ بنڈی سنجے اور ان کے حامیوں نے گذشتہ روز چنگی چڑلہ کا دورہ کیا تھا جس کے بعد علاقہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے۔ اس دوران پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن ان کے حامی پولیس بیریکیٹس کو توڑ کر علاقہ میں داخل ہوگئے اور خوب ہنگامہ آرائی کی۔

اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں پولیس کے کچھ عہدیدار بھی زخمی ہوگئے۔ بنڈی سنجے اور ان کے حامیوں نے پولیس اہلکاروں کے الجھ پڑے اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ بھی استعمال کئے۔

وہیں آج بی جے پی کے متنازعہ لیڈر راجہ سنگھ کو پولیس نے چنگی چڑلہ جانے سے روک دیا اور گھر پر نظربند کردیا، تاکہ علاقہ میں حالات مزید کشیدہ نہ ہوسکے۔

حیدرآباد کے مضافاتی علاقہ چنگی چڑلہ میں گذشتہ 24 مارچ سے حالات انتہائی کشیدہ ہے۔ بی جے پی کے متعدد رہنماؤں پر یہاں حالات کو مزید بگاڑنے کی کوشش کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ تین روز قبل بی جے پی کی مہیلا کارکنوں نے یہاں ہنگامہ کیا تھا۔ اس دوران مسلمانوں کے خلاف خوب زہرافشانی کی گئی۔

دو روز قبل مرکزی وزیر کشن ریڈی نے بھی چنگی چڑلہ کا دورہ کیا، اس دوران بھی حالات کشیدہ دیکھے گئے۔ پولیس نے بی جے پی لیڈروں سے دورہ نہ کرنے کی گذارش کی تھی لیکن وہ علاقہ میں داخل ہونے پر بضد تھے۔ گذشتہ روز بنڈی سنجے نے اپنے درجنوں حامیوں کے ساتھ چنگی چڑلہ کا دورہ کیا۔ اس دوران خوب ہنگامہ کیا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

واضح رہے کہ 24 مارچ کو ہولی کے موقع پر مسجد کے باہر نماز کے اوقات کے دوران ڈی جے بجانے پر اعتراض کیا گیا تو کچھ شرپسندوں نے مسلمانوں پر حملہ کردیا تھا۔ اس دوران دو گروپس میں پتھراؤ ہوا تاہم پولیس نے فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے حالات پر قابو پالیا تھا لیکن کچھ فرقہ پرست عناصر کی جانب سے مسلسل حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پولیس پر بھی یکطرفہ کاروائی کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ ایک طرف پولیس نے متعدد مسلم نوجوانوں کے خلاف سخت دفعات کے تحت مقدمات درج کئے اور انہیں جیل بھیج دیا تو دوسری جانب دوسرے طبقہ کے افراد کے ساتھ انتہائی نرم رویہ اختیار کرنے کا پولیس پر الزام عائد کیا جارہا ہے۔ ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو کھلی چھوٹ دینے اور ان کے خلاف معمولی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مقامی لوگوں نے پولیس پر الزام عائد کیا۔

گذشتہ چار روز سے علاقہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، مقامی مسلمان صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون کا احترام کررہے ہیں تو دوسری جانب فرقہ پرست طاقتیں پرامن فضا کو مکدر کرنے کی سازش کررہی ہیں۔ قومی سطح پر گودی میڈیا بھی اس معاملہ میں جھوٹے پروپگنڈہ کے ذریعہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کےلئے کوشاں ہیں۔ ہندوتوا پارٹی انتخابات میں نفرت انگیز سیاست کے ذریعہ فائدہ اٹھانے کےلئے منصوبہ بنارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں