بی جے پی کا تاناشاہی چہرہ بے نقاب: وزیراعظم مودی کے مسلم مخالف و نفرت انگیز بیان کی دوٹوک مخالفت کرنے پر عثمان غنی کو پارٹی سے نکال دیا گیا (عثمان غنی کا بے باک انٹرویو کا ویڈیو ضرور دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) راجستھان کے بیکانیر میں بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ضلعی صدر عثمان غنی نے وزیراعظم کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف دیئے گئے نفرتی بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی جس کے بعد انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے گذشتہ کئی عرصہ سہ بی جے پی کےلئے کام کررہے ہیں اور علاقہ میں وہ بی جے پی کا بڑا چہرہ ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے مسلمانوں سے متعلق انتہائی نفرت انگیز بیان پر ملک بھر میں تنقیدیں کی جارہی ہے وہیں مسلمانوں نے بھی وزیراعظم کے نفرتی بیان پر شدید غصہ کا اظہار کیا ہے۔

غنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بحیثیت ایک مسلمان مجھے وزیراعظم کا بیان اچھا نہیں لگا، یہ نریندر مودی اکیلی کی پارٹی نہیں ہے، بی جے پی سے سینکڑوں مسلمان جڑے ہوئے ہیں اور ہم جب مسلمانوں سے ووٹ مانگنے جاتے ہیں تو ہم سے مسلمان پوچھتے ہیں کہ نریندر مودی نے ایسے کیوں بولا‘۔ غنی نے مزید کہا کہ میں نریندر مودی کو بھی خط لکھ کر دریافت کروں گا کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا اور آئندہ اس طرح کی واہیات باتیں نہ کریں تو بہتر ہے، بھلے وہ وزیراعظم ہیں، بھلے پارٹی ان سے چلتی ہے، ان کا بڑا چہرہ ہے، لیکن ہم بھی پارٹی کے کارکن ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان ایک گلستان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں