حیدرآباد (دکن فائلز) بی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی راما راؤ نے وزیراعطم نریندر مودی کے تبصروں پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا ہندوستان میں الیکشن کمیشن ہے؟ انہوں نے سوالیہ انداز میں ٹوئٹ کیا کہ ’کیا ہندوستان میں الیکشن کمیشن ہے، کیا وزیر اعظم قانون سے بالاتر ہیں؟ کیا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد اسی طرح ہونا چاہیے؟
کے ٹی آر نے اپنے ٹوئٹ میں پی ٹی آئی کی ایک خبر بھی شیئر کی جس کی سرخی کچھ اس طرح ہے کہ ’کانگریس آئین کو تبدیل کرکے دلت اور او بی سی کوٹہ کو چھین کر جہادی ووٹ بنک کو ریزرویشن دینا چاہتی: پی ایم مودی‘۔
Is there a @ECISVEEP in India?
Is the PM above Law of the Land? Is this how Free and Fair elections are supposed to be conducted? https://t.co/Z6oW0T305J
— KTR (@KTRBRS) May 3, 2024
واضح رہے کہ انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز و توہین آمیز ریمارکس کئے گئے۔ انہوں نے مسلمانوں کو زیادہ بچے پیدا کرنےوالے اور درانداز تک قرار دیا تھا تاہم اب انہوں نے تازہ طور پر تبصرہ کرکے مسلمانوں کی طرف اشارہ کیا اور انہیں جہادی ووٹ بنک تک کہہ ڈالا۔
مودی کے متنازعہ تبصروں پر الیکشن کمیشن کی جانب سے اب تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی، راجستھان میں کئے گئے متنازعہ تبصرہ پر الیکشن کمیشن صرف جے پی نڈا کو ایک نوٹس بھیجا ہے۔
مودی کے متنازعہ و نفرت انگیز تبصروں پر بی آر ایس رہنما کے ٹی آر نے بھی تعجب کا اظہار کیا اور الیکشن کمیشن کی خاموشی پر سوال اٹھائے۔


