روہت ویمولا دلت نہیں تھے، تلنگانہ پولیس کی کلوزر رپورٹ میں دعویٰ، تمام ملزمین کو کلیٹ چٹ

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے طالب علم روہت ویمولا نے جنوری 2016 میں روہت ویمولا کی خودکشی کے بعد یونیورسٹیوں میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات سامنے آئے تھے اور اس واقعہ نے ملک گیر سطح پر احتجاج کو جنم دیا تھا۔ اس معاملہ میں تازہ طور پر ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تلنگانہ پولیس نے ہائیکورٹ سے اس کیس کو بند کرنے کی درحواست کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق روہت ویمولا دلت نہیں تھے جبکہ انہوں نے اس خوف سے خودکشی کرلی تھی کہ ان کی اصل ذات کہیں ظاہر نہ ہوجائے۔

پولیس نے دعویٰ کیاکہ روہت ویمولا نے ذات پات کا سرٹیفکیٹ بنایا تھا۔ پولیس نے اس کیس کو بند کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ روہت کے دلت ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ تلنگانہ پولیس نے اس معاملہ میں کے ملزمین سکندرآباد کے سابق رکن پارلیمنٹ بنڈارو دتاتریہ، ایم ایل سی این رامچندر راؤ، یونیورسٹی آف حیدرآباد کے وائس چانسلر اپاراؤ، مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور کئی اے بی وی پی لیڈروں کو راحت دی ہے۔

سینئر ایڈوکیٹ اے ستیہ پرساد نے کہا کہ صرف ضلع کلکٹر ہی ذات کی حیثیت کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ذات کی حیثیت کا تعین نہیں کر سکتی۔ انہوں نے پولیس پر تنقید کی کہ وہ روہت کی خودکشی کی وجوہات کی تحقیقات کرنے کے بجائے اس کی ذات پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں