کے سی آر نے گودھرا واقعہ کا ذکر تو کیا لیکن گجرات فسادات پر خاموش ہوگئے! (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلہ کے تحت تلنگانہ میں 13 مئی کو پولنگ ہوگی۔ ریاست میں تمام پارٹیوں کی جانب سے انتخابی مہم میں شدت پیدا کردی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر کی بس یاترا بھی جاری ہے۔ کے سی آر نے کل نظام حلقہ میں انتخابی مہم چلائی چونکہ یہاں مسلم ووٹرز بڑی تعداد میں ہیں اس لئے کے سی آر نے مسلمانوں کو راغب کرنے کےلئے بی جے پی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس دوران گجرات ماڈل پر بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’کیا آپ تلنگانہ میں گجرات ماڈل کے نام پر گودھرا ماڈل لائیں گے؟ کیا لوگوں کو زندہ جلا دیا جائے گا ؟

کے سی آر کو سیاست کا دگج کہا جاتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو خوش کرنے کےلئے گجرات کا تو ذکر کیا لیکن انہوں نے گجرات فسادات پر تبصرہ نہیں کیا جس میں سینکڑوں مسلمانوں کو زندہ جلادیا گیا تھا۔ الٹا انہوں نے گودھرا پر تبصرہ کیا۔

واضح رہے کہ گودھرا معاملہ پر کہا جاتا ہے کہ ’27 فروری 2002 کو گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین میں مبینہ طور پر مسلمانوں کی جانب سے آگ لگائے جانے پر 59 ہندو کارسیوک ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے بعد پوری ریاست میں فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں سینکڑوں مسلمانوں میں زندہ جلادیا گیا تھا‘۔

کے سی آر نے ایک تیر سے دو نشانے لگائے۔ گجرات کا ذکر کرکے مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی اور صرف گودھرا کا ذکر کرکے ہندو ووٹرز کو بھی ناراض نہیں کیا، بلکہ کٹر ہندوتوا عناصر بھی گودھرا کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کے سی آر پر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے گذشتہ 10 سال اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں سے بڑے بڑے وعدے تو کئے لیکن ایک بھی وعدہ کو پورا نہیں کیا بلکہ وقف جائیدادوں کی بربادی پر بھی وہ خاموش رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں