حیدرآباد (دکن فائلز) آسام میں بی جے پی حکومت نے گوہاٹی ہائیکورٹ کو بتایا کہ اس نے 5 مسلم خاندانوں کو 30 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کیا ہے جن کے مکانات کو ناگون ضلع میں دو سال قبل بلڈوز کردیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ سلونا باڑی گاؤں کے رہنے والے ایک مچھلی کے تاجر محفوظ الاسلام کی حراستی موت سے متعلق ہے، جسے مبینہ طور پر پولیس نے حراست میں لیکر اس سے 10,000 روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ آئندہ روز وہ پولیس اسٹیشن میں مردہ پایا گیا۔ اس کے بعد مشتعل گاؤں والوں نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی تھی۔
مکتوب میڈیا کے مطابق محفوظ الاسلام کے جنازے کے دوران ہوئے تشدد کے بعد پولیس نے ان کی اہلیہ اور بڑی بیٹی کے علاوہ ایک نابالغ سمیت سات دیہاتیوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ جبکہ ان میں سے چار کے خلاف سخت UAPA (غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اس دوران پولیس ن محفوظ الاسلام، اس کے دو بھائیوں اور دو کزنز کے مکانات کو منہدم کردیا تھا۔ اس کے بعد علاقہ میں دہشت پھیل گئی تھی اور گاؤں کے لوگ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ تاہم نومبر 2022 میں پہلی بار گوہاٹی ہائیکورٹ نے اس معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے غیرقانونی انہدامی کاروائی کی مذمت کی تھی۔ عداتل نے پولیس پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اس کاروائی کا ‘گینگ وار’ سے موازنہ کیا تھا۔
جس کے بعد گذشتہ 3 جنوری کو ریاستی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کا تیقن دیا تھا۔ تازہ طور پر عدالت میں آسام حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ ڈی ناتھ نے بتایا کہ ناگاؤں کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کردیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ایڈوکیٹ ناتھ نے کہا کہ ہیمنت بسوا سرما حکومت نے محفوظ الاسلام کے خاندان کو 2.5 لاکھ روپے کا معاوضہ بھی ادا کردیا ہے۔


