کریمنگر میں ہنومان شوبھا یاترا کے دوران ہنگامہ کرنے والا شخص بی جے پی کارکن نکلا! (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) کریمنگر میں ہنومان کے عقیدتمندوں نے گذشتہ شب شوبھا یاترا نکالی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یاترا کے دوران نشہ میں دھت ایک شخص نے ہنگامہ شروع کردیا، جس کے بعد ہنومان بھگتوں نے اس شخص کو دوسرے مذہب کا سمجھ کر حملہ کردیا تاہم پولیس نے فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے ہنگامہ کرنے والے شخص کو پولیس گاڑی میں بٹھالیا لیکن ہنومان بھگت اس شخص کو حوالہ کرنے کےلئے پولیس سے تکرار کرنے لگے۔ اس دوران پولیس اور بھگتوں میں شدید تکرار ہوئی۔ بھگتوں نے خوب ہنگامہ کیا۔ جس کے بعد علاقہ میں حالات کشیدہ ہوگئے۔

https://x.com/i/status/1794575242641477769

آخر کار پولیس نے نشہ میں دھت شخص کو پولیس اسٹیشن منتقل کیا، ہنومان بھگت اس شخص کو ان کے حوالہ کرنے کےلئے پولیس پر زور دے رہے تھے کیونکہ وہ سجھ رہے تھے کہ ہنگامہ کرنے والے شخص کا تعلق دوسرے مذہب سے ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ جس شحص نے شوبھا یاترا کے دوران ہنگامہ کیا وہ ایک ہندو ہے اور وہ بی جے پی کا کارکن نکلا، وہ مقامی بی جے پی لیڈر بی ستیہ نارائنا کا پیروکار ہے جبکہ اس کا نام جے دیو ہے۔

جیسے ہی جے دیو کی اصلیت کا پتہ چلا، ہنومان بھگتوں کے ہوش اڑگئے کیونکہ وہ کچھ اور سمجھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے ہنگامہ کرنے والے شخص کو دوسرے مذہب کا سمجھ کر اس معاملہ کو لیکر وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی سازش کررہے تھے تاکہ نفرت کا ماحول بنایا جاسکے۔

کریمنگر پولیس کی جانب سے کی گئی فوری کاروائی سے فرقہ پرست طاقتوں منصوبے ناکام ہوگئے۔ عوام کی جانب سے پولیس کی ستائش کی جارہی ہے اور ہنگامہ کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں