مسلم چہرہ کے بغیر مودی کابینہ میں وزارتوں کی تقسیم، اہم وزارتوں پر بی جے پی کا قبضہ برقرار

حیدرآباد (دکن فائلز) وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری کابینہ میں اہم چار وزارتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے۔ امیت شاہ کے پاس داخلہ کا قلمدان برقرار رہے گا، راج ناتھ سنگھ دفاع، وزارت خارجہ ایس جے شنکر کے پاس اور وزارت خزانہ نرملا سیتارامن کے پاس ہی رہے گی۔ جبکہ وزیر اعظم خود وزارت عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، محکمہ جوہری توانائی اور خلائی محکمہ کو سنبھالیں گے۔

اس کے علاوہ نتن گڈکری کو بھی ان کے ماتحت دو جونیئرز اجے ٹمٹا اور ہرش ملہوترا کے ساتھ روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت پر برقرار رکھا جائے گا۔ وہیں پیوش گوئل کو بھی کامرس کا پورٹ فولیو کو دیا جائے گا۔ اسی طرح وزیر صحت جے پی نڈا کو بھی واپس کابینہ میں لایا گیا ہے۔انہیں کیمیکل اینڈ فرٹیلائزر ڈپارٹمنٹ کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔

I&B اور ریلوے کا اہم پورٹ فولیو اشونی وشنو سنبھالیں گے۔ شہری ہوا بازی کی وزارت جیوتی رادتیہ سندھیا کے بجائے ٹی ڈی پی کے رام موہن نائیڈو کے پاس ہے جو کابینہ کے سب سے کم عمر وزیر ہیں۔ جبکہ سندھیا کو ٹیلی کام کی وزارت کا انچارج بنایا گیا ہے۔

بی جے پی کی اہم ریاستوں ہریانہ اور مدھیہ پردیش کے دو سابق وزرائے اعلیٰ، جنہیں مرکز میں لایا گیا ہے، کو اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ منوہر لال کھٹر دو اہم وزارتیں سنبھالیں گے- انہیں پاور، ہاؤسنگ اور شہری امور کا انچارج بنایا گیا ہے جبکہ ان کی مدد کےلئے دو جونیئر وزیر شری پد نائک اور ٹوکھن ساہو کو مقرر کیا گیا ہے۔

مدھیہ پردیش کے چار بار چیف منسٹر رہنے والے شیوراج سنگھ چوہان وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود و دیہی ترقی کی وزارتیں سنبھالیں گے۔

ارتھ سائنسز اور فوڈ پروسیسنگ کے سابق وزیر، کرن رجیجو کو پارلیمانی امور کا انچارج بنایا گیا ہے، جو پہلے پرہلاد جوشی کے پاس تھا۔ جبکہ جوشی کو خوراک، صارفین کے امور اور قابل تجدید توانائی کے محکمے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

سی آر پاٹل جل شکتی وزارت اور بھوپیندر یادو، ماحولیات کے انچارج ہوں گے۔ گری راج سنگھ کو ٹیکسٹائل میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ اناپورنا دیوی خواتین اور بچوں کی ترقی کے پورٹ فولیو کی انچارج ہوں گی جو اسمرتی ایرانی کے پاس تھا۔ منسکھ منڈاویہ کو لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ و کھیل و نوجوانوں کے امور کا انچارج بنایا گیا ہے۔

روونیت سنگھ بٹو، جو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ بینت سنگھ کے پوتے ہیں، جنہیں 1995 میں قتل کر دیا گیا تھا ، فوڈ پروسیسنگ اور ریلوے کے جونیئر منسٹر ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بٹو لدھیانہ سے الیکشن ہار گئے ہیں اور انہیں اگلے چھ ماہ کے اندر پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان میں نشست حاصل کرنی ہوگی۔

بہار کے سابق وزیراعلی اور HAM کے سربراہ جیتن رام مانجھی کے پاس مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کا چارج ہوگا اور شوبھا کرندلاجے کو ریاستی وزیر بنایا جائے گا۔ اسی طرح جنتا دل سیکولر کے سربراہ ایچ ڈی کمار سوامی کو ہیوی انڈسٹریز اور اسٹیل کے محکموں کا انچارج بنایا گیا ہے۔

ایل جے پی کے سربراہ چراغ پاسوان کو فوڈ پروسیسنگ محکمہ کا چارج دیا گیا ہے۔ آزادانہ چارج رکھنے والے وزرائے مملکت میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے سب سے زیادہ مصروف رہنے کی امید ہے۔ جموں و کشمیر سے تیسری بار مرکزی وزیر بنے، انہیں متعدد محکموں کا انچارج بنایا گیا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی، وزارت ارتھ سائنسز، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، محکمہ جوہری توانائی، محکمہ خلائی کے علاوہ وزیر اعظم کا دفتر بھی ان کے پاس ہی رہے گا۔

ارجن رام میگھوال کے پاس قانون اور انصاف کا آزادانہ چارج ہوگا اور وہ پارلیمانی امور کے جونیئر وزیر بھی ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں