NEET امتحان میں دھاندلی کے الزامات کے بعد سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک بھر کے میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے لیے حال ہی میں منعقدہ NEET امتحان تنازعہ پر سپریم کورٹ میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے طلباء کو ایک خصوصی ہدایت دی ہے۔ یہ ہدایات ان طلبا کے لیے ہیں جنہوں نے گریس نمبر حاصل کیے ہیں۔ عدالت نے کہا ہے کہ ایسے طلباء کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ امتحان میں دوبارہ شرکت کریں یا 4 رعایتی نمبر چھوڑ کر نیا رینک قبول کریں۔

وہیں مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ این ٹی اے نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ تقریباً 1600 بچے دوبارہ امتحان دیں۔ امتحان میں بے قاعدگیوں کے الزامات کے بعد مرکز نے سنسنی خیز فیصلہ کیا ہے۔ انکوائری کمیٹی کی ہدایات کے مطابق سپریم کورٹ نے بتایا ہے کہ 1563 طلبا کے کمبائنڈ گریس مارکس ختم کردیئے جائیں گے اور ان طلبا کے لیے دوبارہ امتحان کا انعقاد کیا جائے گا، جس کےلئے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ 23 جون کو ان 1563 طلباء کا دوبارہ امتحان لیا جائے گا اور 30 ​​جون تک نتائج کا اعلان ہوگا۔ اس فیصلے سے NEET لکھنے والے تمام طلباء کے ساتھ انصاف ہوگا۔ اگر طلبا دوبارہ امتحان لکھنے سے انکار کرتے ہیں تو انہیں گذشتہ امتحان میں حاصل کردہ نشانات کو نظر میں رکھتے ہوئے رینک الاٹ کیا جائے گا۔

نیٹ کے نتائج میں دھاندلی کے معاملہ میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے کہا کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے اور جو بھی قصوروار پایا جائے گا اسے سخت سزا دی جائے گی۔ وہیں کانگریس نے اس معاملہ کو لیکر مودی حکومت پر بڑا حملہ کیا ہے اور مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس نے اس معاملہ کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں