حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے قبائیلی اکثریتی علاقہ منڈلا میں گائے کے گوشت رکھنے کے الزام میں 11 مکانات کو مسمار کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گائے کے گوشت کی غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائی کے ایک حصے کے طور پر منڈلا میں 11 مکانات کو سرکاری زمین پر بنائے گئے تھے کو منہدم کردیا گیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ رجت سکلیچا نے بتایا کہ یہ کارروائی اس اطلاع کے بعد کی گئی جب نین پور کے بھینواہی علاقے میں بڑی تعداد میں گائے کو ذبح کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔ پولیس ٹیم کی جانب سے ملزمان کے قبضہ سے 150 گائیں ضبط کی گئیں اور 11 ملزمان کے گھروں کے ریفریجریٹرز سے گائے کا گوشت برآمد کیا گیا۔ اس موقع پر جانوروں کی چربی، مویشیوں کی کھال اور ہڈیاں بھی ملیں، جو ایک کمرے میں بھری ہوئی تھیں۔
بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے گائے کا گوشت ہونے کی تصدیق کی گئی جس کے بعد مویشیوں سے متعلق غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف پولیس کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا کہ ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ تمام ملزمان مسلمان ہیں۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ ایم پی میں گائے کو ذبح کرنے پر سات سال کی قید کی سزا ہے۔


