بڑی خبر: چھتیس گڑھ ماب لنچنگ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد تین ہوگئی، صدام قریشی 10 دن سے جاری زندگی کی جنگ بالآخر ہار گئے، اب تک ایک بھی گرفتاری نہیں ہوئی

حیدرآباد (دکن فائلز) چھتیس گڑھ میں پیش آئے ماب لنچنگ معاملہ میں تین مسلمان جاں بحق ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صدام قریشی جو 10 روز قبل ہوئے ہجومی تشدد میں شدید زخمی ہوگئے تھے نے آج رائے پور کے ایک ہاسپٹل میں آخری سانس لی۔ قبل ازیں صدام قریشی کے سر کی سرجری کی گئی تھی جس کے بعد وہ بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے تھے۔ ماب لنچنگ میں صدام قریشی کے سر پر شدید چوٹیں آئی تھی اور پسلیوں، کاندھے، بائیں ہاتھ اور ریڑھ کی ہڈی میں بھی متعدد فریکچر آئے تھے۔

واضح رہے کہ 10 روز قبل اترپردیش کے سہارنپور میں رہنے والے چاند خان، گڈو خان ​​اور صدام قریشی ایک ٹرک کے ذریعہ کچھ مویشیوں کو مہاسمنڈ سے اڈیشہ لیکر جارہے تھے کہ رائے پور کے قریب ارنگ میں ان پر 10 نامعلوم افراد پر مشتمل ایک گروپ نے حملہ کردیا۔ شدت پسندوں نے تینوں مسلم نوجوانوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور مہاندی میں پھینک دیا تھا۔ چاند خان موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ گڈو خان کی علاج کے دوران موت ہوگئی۔ تیسرے نوجوان صدام قریشی کو شدید زخمی حالت میں رائے پور کے ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں اس کے دماغ اور معدہ کی سرجری کی گئی۔ بعد ازاں تشویش ناک حالت میں انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ آج صدام قریشی بھی جاں بحق ہوگئے۔

پولیس نے اس معاملہ میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاہم 10 روز گذرنے کے باوجود اس معاملہ میں کسی شرپسند کی شناخت نہیں ہوسکی اور نہ ہی کسی بھی ملزم کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق صدام قریشی کے بیان کی بنیاد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر تحقیقات کی جارہی ہے۔

دی انڈین ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق مہلوکین کے رشتہ داروں نے بتایا کہ ہجومی تشدد کے دوران صدام حسین نے کال کرکے فون کو جیب میں رکھ لیا تھا، کال کے دوران وہ چیخ رہا تھا کہ اس کا ہاتھ اور ٹانگ ٹوٹ گئی۔ وہ التجا کر رہا تھا بھائی ایک گھونٹ پانی پیلا دو، مارو مت بس پانی پیلا دو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کال کے دوران کچھ دیگر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سناگیا کہ ‘کہاں سے لائے ہو… چھوڑیں گے نہیں‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں