بڑی خبر: غیور مسلم طالبات کی جیت، ممبئی کالج میں حجاب پہننے پر لگی روک کو سپریم کورٹ نے ہٹادیا، باحجاب طالبات نے عدالت کا کیا شکریہ ادا

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے جمعہ (9 اگست) کو ممبئی کے ایک پرائیویٹ کالج کی طرف سے کیمپس میں مسلم طالب علموں کے حجاب یا ٹوپی پہننے پر پابندی عائد کرنے کے حکم پر روک لگا دی۔ عدالت نے یہ عبوری حکم ممبئی کے این جی آچاریہ اور ڈی کے مراٹھے کالج کی مسلم طالبات کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دیا۔ سپریم کورٹ نے اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 18 نومبر کے بعد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

درخواست گزاروں نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس نے کالج کی ہدایات کو برقرار رکھا تھا۔ معزز جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بنچ نے کالج کی طرف سے لگائی گئی اس شرط پر حیرت کا اظہار کیا۔

بنچ نے کہا کہ “یہ کیا ہے؟ ایسا اصول مت لگائیں.. یہ کیا ہے؟ کیا مذہب کو ظاہر نہیں کیا جاسکتا؟”۔ جسٹس کھنہ نے کالج کے استدلال کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ یہ اصول اس لیے لگایا گیا تھا تاکہ طلبا کا مذہب ظاہر نہ ہو۔ عدالت نے کہا کہ “کیا طلبا کے ناموں سے مذہب ظاہر نہیں ہوگا؟ کیا آپ ان کو نمبروں سے پہچاننے کو کہیں گے؟”

واضح رہے کہ ممبئی کے این جی آچاریہ اور ڈی کے مراٹھے کالج نے ہٹلری فرمان جاری کرکے طالبات کے حجاب اور برقعہ وغیرہ پہننے پر پابندی لگادی تھی۔ اس تغلقی حکم کے خلاف 9 مسلم طالبات نے پہلے بامبے ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا، لیکن ہائی کورٹ نے عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ اس کے بعد مسلم طالبات نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، جہاں عدالت نے انہیں حجاب و برقعہ پہننے کی عبوری طور پر اجازت دے دی اور کالج کی جانب سے حجاب پر لگائی گئی پابندی کو ہٹادیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں