سنبھل جامع مسجد سروے کی مخالفت کررہے احتجاجیوں پر پولیس نے فائرنگ کردی، تین نوجوان جاں بحق، بڑے پیمانہ پر گرفتاریوں کا خدشہ، مقامی لوگ دہشت میں، تشدد میں ملوث افراد کے خلاف این ایس اے کے تحت کاروائی کرنے پولیس کا اعلان

حیدرآباد (دکن فائلز) سنبھل جامع مسجد سروے کی مخالفت کررہے احتجاجیوں پر پولیس نے فائرنگ کردی، تین نوجوان جاں بحق، بے قصور افراد کی بڑے پیمانہ پر گرفتاریوں کا خدشہ، مقامی لوگ دہشت میں، تشدد میں ملوث افراد کے خلاف این ایس اے کے تحت کاروائی کرنے پولیس کا اعلان

حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش سنبھل میں پولیس فائرنگ میں تین مسلم نوجوان جاں بحق ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تاریخی جامع مسجد کے سروے کے خلاف مقامی مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا، اس دوران پتھراؤں کے بعد پولیس نے احتجاجیوں پر فائرنگ کردی، جس میں تین نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق پتھراؤں میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور ایک پولیس گاڑیوں کو بھی آگ لگادی گئی۔

جاں بحق مسلم نوجوانوں کی شناخت کورٹ کروی کے نعیم، سرائے ترین کے بلال اور سنبھل کے حیات نگر کے رہنے والے نعمان کے طور پر کی گئی۔ پولیس کے مطابق تینوں مسلم نوجوانوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے بعد خاندانوں کے حوالے کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق رات دیر گئے لاشوں کو حوالے کرنے اور تدفین کا امکان ہے۔ نماز جنازہ و تدفین کے دوران پولیس کی جانب سے سخت سیکوریٹی رکھی جائے گی۔

مقامی عدالت کے مقرر کردہ کمشنر اور ان کی ٹیم کے چھ ارکان آج صبح سات بجے کے قریب دوسرے روز کے سروے کے لیے تاریخی جامع مسجد سنبھل پہنچے۔ اس سروے کے خلاف مقامی مسلمانوں نے بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا جو بعد میں پرتشدد ہوگیا۔

مراد آباد کے ڈویژنل کمشنر اونجنیا کمار سنگھ نے کہاکہ “تین افراد گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔ سنگھ نے مزید کہاکہ “اب تک 15 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں جو اپنے گھروں کی چھتوں سے پتھر پھینک رہی تھیں”۔

جاں بحق ہونے والے ایک شخص نعیم کے والدین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا بیٹا پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا، تاہم حکام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ تین گروپ تھے جو ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھے۔ ہمارے پاس ثبوت ہیں، لیکن ہماری ترجیح اس وقت متاثرہ علاقوں میں امن بحال کرنا ہے‘‘۔

سنبھل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) کرشنا کمار بشنوئی نے کہا کہ اتوار کے تشدد میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے تلاشی مہم شروع کی گئی ہے۔ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف بڑے پیمانہ پر کاروائی کرتے ہوئے قومی سلامتی ایکٹ (NSA) کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

مقامی لوگوں نے پولیس کے رویہ پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجیوں و پتھراؤں کرنے والوں کے سینوں پر گولیاں چلانے کے بعد ان کے پیروں کو نشانہ بنایا جاسکتا تھا۔ پولیس نے سیدھے جسم کے اوپر فائرنگ کردی۔ مقامی لوگوں نے بے قصور افراد کی بڑے پیمانہ پر گرفتاریوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا، جس کی وجہ سے لوگ دہشت میں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں