سنبھل جامع مسجد سروے کی مخالفت میں احتجاج کے دوران جاں بحق پانچ مسلم نوجوانوں کی تدفین، غمگین خاندانوں کا خاموش ماتم، علاقہ میں شدید غم و غصہ کی لہر

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے سنبھل شہر میں شاہی جامع مسجد علاقہ میں خوفناک خاموشی ہے۔ یہاں فائرنگ میں ہلاک مسلم نوجوانوں کا ماتم بھی خاموشی سے کرنے کو کہا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ سروے کمیشن صبح تقریباً 6 بجے مسجد پہنچ گیا تھا، تاہم اس دوران افواہوں کے علاوہ ہندوتوا گروپ کی جانب سے شرانگیزی اور نعرے بازی سے صورتحال بگڑ گئی۔

مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پتھراؤں کے بعد فارئنگ میں پانچ مسلم نوجوان جاں بحق ہوگئے۔ پانچ خاندانوں میں کہرام مچا ہوا ہے۔ ایک خاندان نے بتایا کہ ان کا 17 سالہ بیٹا محمد ایان پولیس فائرنگ میں اس وقت ہلاک ہوگیا جب وہ کام پر جا رہا تھا۔ ماں نفیسہ جو کہ کچھ بھی کہنے کی حالت میں نہیں تھیں اپنے نوجوان بیٹے کی لاش کا نم آنکھوں سے دیدار کرتے ہوئے پرانی یادوں کو بیہوشی کی حالت میں بڑبڑا رہی تھیں۔

محمد ایان ہوٹل میں کام کرتے تھے اور خاندان میں واحد کمانے والے تھے۔ ایان کی دو بہنیں ہیں جو ماں کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ہیں۔ پیر کی رات پانچ مسلم نوجوانوں کی لاشوں کو خاندانوں کے حوالہ کیا گیا۔ نماز جنازہ و تدفین کے دوران پولیس کی بھاری جمیعت کو علاقہ میں تعینات کیا گیا تھا۔

محمد ایان کے علاوہ جاں بحق ہونے والے دیگر نوجوانوں کی شناخت نعیم (28)، محمد بلال انصاری (25)، نعمان اور محمد کیف (17) کے طور پر ہوئی ہے۔

نعیم کے 60 سالہ والد کا رو رو کر بلا حال تھا۔ وہ آٹو چلاتے ہیں۔ انہیں سات لڑکیاں اور دو بیٹے ہیں تاہم ایک بیٹا نعیم کی بے وقت موت سے سارا خاندان صدمہ میں تھا۔ خاندان میں باپ اور نعیم دونوں ہی کماتے تھے۔ اب خاندان کا سارا بوجھ بوڑھے باپ پر آگیا جن کی سات لڑکیاں ہیں۔ نعیم کی ہلاکت پر خاندان کے علاوہ علاقہ کے لوگوں میں بھی شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔

فائرنگ میں جاں بحق پانچوں نوجوان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور علاقہ کے قبرستان میں ہی تدفین عمل میں آئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں