گجرات میں ایک اور پاکستانی مخبر دپیش گوہل گرفتار، مخصوص طبقہ سے تعلق کی بنیاد پر گودی میڈیا خاموش

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات اے ٹی ایس نے بڑی کاروائی کرتے ہوئے پاکستانی مخبر کو گرفتار کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گجرات کے دوارکا میں کام کرنے والا دپیش گوہل فیس بک پر پاکستانی بحریہ کی ایک افسر عاصمہ سے رابطہ میں تھا اور اسے ملک کی انتہائی حساس معلومات شیئر کررہا تھا۔

اے ٹی ایس نے بتایا کہ دپیش گوہل نے دوارکا کے اوکھا علاقے سے حساس تصاویر اکٹھی کرکے انہیں پاکستان بھیجیں، جن میں زیادہ تر معلومات ہندوستانی کوسٹ گارڈ سے متعلق تھیں۔ دپیش نے مبینہ طور پر واٹس ایپ کے ذریعہ کوسٹ گارڈ کے جہاز کی نقل و حرکت کی ویڈیوز سمیت حساس معلومات پاکستان کو بھیجیں۔

اے ٹی ایس نے بتایا کہ “ہمیں خفیہ اطلاع ملی کہ اوکھا کا ایک شخص پاکستان کی بحریہ یا آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلی جنس) کے ایجنٹ کے ساتھ واٹس ایپ کے ذریعے کوسٹ گارڈ کے بارے میں تفصیلات شیئر کر رہا ہے۔ تحقیقات کے بعد ہم نے اوکھا کے رہائشی دپیش گوہل کو گرفتار کرلیا۔ دپیش پاکستان کےلئے مخبری کررہا تھا۔

اے ٹی ایس نے کہا کہ گوہل کو اوکھا بندرگاہ پر کوسٹ گارڈ کے جہازوں تک آسانی سے رسائی حاصل تھی۔ اس نے ملک کی انتہائی حساس معلومات کے عوض اب تک پاکستانی ہینڈلر سے 42 ہزار روپئے وصول کئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جاریہ سال 9 مئی کو گجرات پولیس نے پاکستانی خفیہ ایجنسی ISI کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کے الزام میں گجرات کے ضلع بھروچ میں ایک شخص کو گرفتار کیا تھا۔ ملزم کی شناخت پروین مشرا کے نام سے ہوئی تھی۔ مشرا نے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کے تیار کردہ ڈرون سے متعلق اہم معلومات پاکستان کو بھیجیں تھی۔

اسی طرح جاریہ سال فروری میں اتر پردیش اے ٹی ایس نے ماسکو میں ہندوستانی سفارت خانہ کے ایک ملازم کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اسے میرٹھ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار شخص کی شناخت ستندرا سیوال کے طور پر کی گئی۔

ایک اور واقعہ میں اتر پردیش اے ٹی ایس نے 19 مئی 2024 کو ایک شخص کو پاکستان کی آئی ایس آئی کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے اور سرحد پار سے ہینڈلرز کو اہم معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ملزم رام سنگھ، راموا پور تھانہ پپرائچ گورکھپور کا رہنے والا ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس اے ٹی ایس نیلابجا چودھری نے بتایا تھا کہ مخبروں کی معلومات کی بنیاد پرانہیں رام سنگھ کی سرگرمیاں مشکوک معلوم ہوئیں اور تحقیقات میں پتہ چلا کہ وہ پاکستان کےلئے مخبری کررہا تھا۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ کے دوران پاکستان کو انتہائی حساس معلومات بھیجنے سے متعلق کئی واقعات سامنے آئے ہیں جبکہ اکثر معاملات میں غداروں کا تعلق اکثریتی فرقہ سے رہا ہے، ایسے معاملات پر گودی میڈیا کی جانب سے کوئی شور پکارا نہیں کیا جاتا لیکن اگر اس طرح کے کسی معاملہ میں دور دور تک بھی کسی ایک مسلم شخص کا صرف نام بھی آجائے تو پھر گودی میڈیا اپنی ناپاک حرکتوں پر اتر ااتا ہے۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ان کے خلاف نفرت بھڑکانے کےلئے ہنگامہ شروع کردیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں