اب سنبھل تشدد معاملہ میں پاکستان کی انٹری، 9 دن بعد علاقہ میں تلاشی کاروائی، غیرملکی کارتوس برآمد

حیدرآباد (دکن فائلز) سنبھل میں جامع مسجد سروے کی مخالفت میں احتجاج کررہے مسلمانوں پر کی گئی فائرنگ میں 5 نوجوان جاں بحق ہوگئے تھے تاہم پولیس کی جانب سے فائرنگ کی تردید کی گئی اور بتایا گیا کہ آپسی رنجش کی وجہ سے مسلمانوں کے دو فرقوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی تھی۔ 24 نومبر کو ہوئی کے بعد آج 3 دسمبر کو پولیس کی جانب سے بیان دیا گیا کہ فائرنگ واقعہ کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق راہول گاندھی کے دورہ سنبھل سے ایک روز قبل پولیس نے جامع مسجد کے اطراف و اکناف کے علاقہ میں تلاشی مہم چلائی، اس دوران میونسپل عملہ کی مدد سے گندہ پانی بہنے کی نالیوں کی بھی جانچ کی گئی۔ پولیس کے مطابق سرچ آپریشن میں پاکستان کی ایک غلط فائر کی گئی 9 ایم ایم کارتوس اور ایک خالی کارتوس برآمد کی گئی۔ فارنسک ٹیم نے کل 6 کارتوس برآمد کئے۔

ایس پی کرشنا کمار بشنوئی نے کہا کہ سنبھل تشدد کی دو ایس آئی ٹی بنا کر جانچ کی جا رہی ہے۔ منگل کو تفتیش کار امت کمار اور فارنسک ڈپارٹمنٹ کی ٹیم جامع مسجد کے پیچھے تشدد والے علاقے میں تلاشی لی گئی۔ جہاں پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی ایک مس فائر اور 9 ایم ایم کا خول برآمد ہوا ہے۔ اس کے علاوہ 12 بور کا ونچسٹر میڈ ان یو ایس اے کارتوس برآمد ہوا ہے۔ مجموعی طور پر پانچ فائر شدہ کارتوس اور ایک مس فائر شدہ کارتوس ملا۔ اندھیرے کی وجہ سے تلاشی کاروائی کو کل تک کےلئے ملتوی کیا گیا۔ 4 دسمبر کو پولیس باریک بینی سے تفتیش کو جاری رکھے گی۔ ایس پی نے کہا کہ سنبھل میں اس طرح کے کارتوس کا ملنا کوئی بڑی بات نہیں ہے، کیونکہ یہاں اکثر این آئی اے کے چھاپے ہوتے رہتے ہیں۔

ایس پی نے کہا کہ جو بھی کارتوس برآمد ہوئے ہیں، وہ پولیس کے زیر استعمال نہیں ہیں۔ ماہرین کے ذریعہ مکمل جانچ کی جائے گی۔ برآمد شدہ کارتوسوں کو فارنسک لیاب بھیجا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں