حیدرآباد (دکن فائلز) گیانواپی مسجد کی انتظامی کمیٹی نے عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق خصوصی ایکٹ کے جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ مسجد کمیٹی نے عدالت عظمیٰ سے اس معاملہ میں مداخلت کی درخواست کی۔
وارانسی کی گیانواپی مسجد کی انتظامی کمیٹی نے سپیرم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں کہا کہ ’عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کو غیرآئینی قرار دینے کے مطالبہ کے پورے ملک میں انتہائی خراب نتائج برآمد ہوں گے، جس سے امن و امان کی برقراری میں بڑے پیمانہ پر خلل پڑے گا۔ درخواست میں حال ہی میں پیش آئے سنبھل واقعہ کا حوالہ بھی دیا گیا جہاں ایک مقامی عدالت نے ایک مخصوص فرقہ کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر دوسرے فریق کا موقف سنے بغیر سروے کا حکم دے دیا۔
مسجد کمیٹی کے مطابق 1991 کے قانون کی کچھ فرقہ پرستوں کی جانب سے غلط تشریح کی جا رہی ہے اور متعدد مساجد پر دعویٰ کرتے ہوئے قانون کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کمیٹی نے بابری مسجد مقدمہ کے فیصلہ کا بھی حوالہ دیا جس میں اس قانون کی تعریف کی گئی۔
واضح رہے کہ عبادت گاہوں کے تحفظ کے ایکٹ 1991 کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں داخل کی گئیں، اس میں وہ درخواستیں بھی شامل جس میں قانون کی بعض دفعات کی صداقت (صحیح ہونے) پر ہی سوال اٹھایا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے مرکز کو نوٹس جاری کرکے ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر جواب طلب کیا گیا۔ عدالت عظمیٰ نے اس نوعیت کے تمام معاملات کو ٹیگ کردیا تاکہ تمام پر ایک ساتھ سماعت کی جاسکے۔


