حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے رتلام ضلع میں تین معصوم بچوں پر شدت پسندوں کے ایک گروپ نے تشدد کیا۔ تینوں بچوں کو بار بار چپل سے منہ پر مارکر انہیں ’جے ایس آر‘ کا نعرہ لگانے کےلئے مجبور کیا گیا۔ چھوٹے بچے درد اور خوف سے بلبلارہے تھے، شدت پسندوں کو ان پر رحم آنے کے بجائے انہیں مزہ آرہا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انسان کھلانے کے لائق نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تینوں بچوں کا تعلق مسلم کمیونیٹی سے بتایا گیا۔
اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جبکہ ویڈیو میں تینوں بچوں کو روتے اور درد چیختے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ مقامی شخص عمران خان نے بتایا کہ تین بچوں میں سب سے چھوٹا بچہ صرف 6 سال کا تھا جبکہ دیگر دو کی عمریں 11 اور 13 سال ہے، ان میں ایک لڑکا یتیم بھی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ گزشتہ ماہ پیش آیا تھا لیکن حال ہی میں سوشل میڈیا پر حملہ کی ایک ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد یہ منظر عام پر آیا۔ یہ ویڈیو لڑکوں کو مارنے والے شخص کے ایک ساتھی نے ریکارڈ کی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جمعرات کو بچوں کی پٹائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مسلم کمیونٹی کے لوگوں کی بڑی تعداد مانک چوک پولیس اسٹیشن پہنچی اور معصم بچوں کو مارنے پیٹنے والے ظالم شخص کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا تو پولیس نیند سے بیدار ہوئی اور مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ یہ ویڈیو ایک ماہ پرانا بتایا جارہا ہے۔
رتلام کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایڈیل ایس پی) راکیش کھاکا نے کہا، “بچوں کی پٹائی سے متعلق ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے۔ ویڈیو تقریباً ایک ماہ پرانی بتائی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں سائبر ٹیم کو معاملے کی چھان بین کرنے اور ملزمان کی تلاش کے لیے کہا گیا ہے۔
پولیس نے بعد میں کہا کہ اس سلسلے میں دو نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جو نابالغ بھی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف فحش فعل کرنے، تکلیف پہنچانے، غلط قید، مجرمانہ دھمکیاں دینے اور مذہب کی بنیاد پر گروہوں کے درمیان دشمنی، نفرت اور انتشار کو فروغ دینے سے متعلق جرائم کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص لڑکوں کو تھپڑ مارتا ہے جس پر ایک لڑکا درد سے ’اللہ‘ پکارتا ہے۔۔۔ اس پر شخص کہنا ہے ’’کیا کہا اللہ؟‘‘ ۔ اس کے بعد شدت پسندوں کا گروپ تینوں لڑکوں کو مارپیٹ کرتا ہے اور انہیں زبردستی ’جے ایس آر‘ کا نعرے لگانے کےلئے مجبور کرتا ہے۔


