حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملک کے مسلمانوں سے بات کرنے کی جذباتی اپیل کی ہے۔ انہوں نے یہ اپیل 6 دسمبر کو نماز جمعہ کے موقع پر اس وقت کی جب ملک میں مساجد کے سروے کو لے کر فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مسلمان تشویش میں مبتلا ہیں۔ بخاری نے کہا کہ وزیر اعظم مودی اپنے باوقار عہدہ کا حق ادا کرتے ہوئے مسلمانوں کے دل جیتنے کی کوشش کریں۔
اے بی پی لائیو کی رپورٹ کے مطابق امام بخاری نے وزیر اعظم مودی سے یہ بھی کہا کہ “آپ جس کرسی پر بیٹھے ہیں اس کے ساتھ انصاف کریں۔ مسلمانوں کے دل جیتیں اور ان شرپسندوں کو روکیں جو ملک کا ماحول خراب کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ آج حالات 1947 سے بھی بدتر ہو چکے ہیں اور یہ صورتحال ملک کے مستقبل کے بارے میں خدشات کو جنم دیتی ہے۔ بخاری کی آنکھوں میں آنسو تھے جب انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں جانتا کہ ملک کس طرف جائے گا۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان پی ایم مودی سے فوری قدم اٹھانے اپیل کی۔
انہوں نے تجویز دی کہ اس کشیدگی کو دور کرنے کے لیے تین ہندو اور تین مسلمانوں کو مذاکرات کے لیے مدعو کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ بات چیت ملک کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے‘‘۔
بخاری نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے اور مندر مسجد تنازعات کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان تنازعات کی وجہ سے ملک کا ماحول خراب ہو رہا ہے اور اس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔


