حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے جونپور میں واقع اٹالا مسجد کمیٹی نے نچلی عدالت کے حکم کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے جبکہ دعویٰ کیا گیا یہ مسجد نہیں بلکہ ایک قدیم ہندو مندر ہے۔ عدالت کا حکم سوراج واہنی ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کی گئی ایک عرضی کے بعد آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اٹالا مسجد اصل میں اٹالا دیوی مندر ہے۔
مسجد انتظامیہ نے دلیل دی کہ مسجد کو 1398 میں تعمیر کیا گیا تب سے یہاں پانچوقتہ نمازوں کا سلسلہ جاری ہے اور یہ مسجد ہمیشہ مسلمانوں کے قبضہ میں رہی ہے۔ وہیں سوراج واہنی ایسوسی ایشن نے گذشتہ مئی میں جونپور سیول کورٹ میں ایک عرصی داخل کرکے مطالبہ کیا تھا کہ جائیداد کو مندر قرار دیا جائے اور سناتن مذہب کے پیروکاروں کو اس میں عبادت کا حق دیا جائے۔
عرضی میں دعویٰ کیا گیا کہ راجہ وجے چندر نے 13ویں صدی میں اٹالا دیوی مندر بنوایا تھا، جہاں پوجا، سیوا اور کیرتن جیسی ہندو رسومات ادا کی جاتی تھیں۔ 14ویں صدی کے دوسرے نصف میں فیروز شاہ تغلق کے دور حکومت میں مندر کو منہدم کر دیا گیا تھا اور مسجد تعمیر کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق 25 جولائی کو عدالت کی جانب سے مقرر کردہ ٹیم مسجد کے مقام پر سروے کےلئے پہنچی تھی تاہم گیٹ بند ہونے کی وجہ سروے نہ ہوسکا۔
https://x.com/asadowaisi/status/1865222195850477685
اٹالا مسجد پر پسندوں کے دعوے پر بیرسٹر اسدالدین اویسی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان کے لوگوں کو تاریخ کی لڑائیوں میں دھکیلا جا رہا ہے جہاں کوئی وجود نہیں تھا۔ کوئی بھی قوم سپر پاور نہیں بن سکتی اگر اس کی 14 فیصد آبادی کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہو۔ ہر ’’واہنی‘‘ ’’پریشد‘‘ ’’سینا‘‘ وغیرہ کے پیچھے حکمراں پارٹی کا غیر مرئی ہاتھ ہے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ عبادت گاہوں کے قانون کا دفاع کریں اور ان جھوٹے تنازعات کو ختم کریں۔‘


