’ہندوتوا بیماری ہے‘ التجا مفتی کے ٹوئٹ پر شدت پسند چراغ پا، رام کے نام پر تشدد کے واقعات پر پی ڈی پی رہنما کا شدید ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز) جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے ملک میں پیش آرہے کٹر ہندوتوا کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا جس میں مسلمانوں کو ’جے ایس آر‘ کا نعرے لگانے کےلئے جبر کیا جارہا ہے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مفتی نے کٹرہندتوا کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ہندوتوا ایک بیماری ہے’ جبکہ ویڈیو میں تین معصوم بچوں کو جو مسلمان ہیں انہیں کچھ شدت پسند جے ایس آر کا نعرے لگانے کے لئے مجبور کررہے ہیں اور اللہ کہنے سے منع کرتے ہوئے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔ تینوں مسلم بچے درد سے بلبلارہے ہیں اور چیخ و پکار کررہے ہیں لیکن شدت پسند انہیں چپل سے مسلسل مار رہا ہے۔

التجا مفتی نے ٹوئٹ کیا کہ ’واقعہ کے بعد رام جی کا سر شرم سے جھک گیا ہوگا جب انہوں نے بے بسی کے عالم میں دیکھا ہوگا کہ نابالغ مسلم لڑکوں کو ان کا نام لینے چپلوں سے مارا پیٹا جارہا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہندوتوا ایک بیماری کی طرح ہے اور یہ بھگوان کے نام پر کروڑوں ہندوستانیوں کو متاثر کر رہی ہے‘۔

https://x.com/IltijaMufti_/status/1865338329065193646

واضح رہے کہ قبل ازیں تمل ناڈو کے نائب وزیر اعلیٰ ادے ندھی اسٹالن نے بھی سناتن دھرم پر ایسا ہی تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سناتن دھرم ڈینگو اور ملیریا کی طرح ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے، اس نے پورے ملک میں کافی ہنگامہ برپا کئے ہوئے ہیں۔

https://x.com/IltijaMufti_/status/1865683855551692943
بعد میں التجا مفتی نے ایک اور ٹوئٹ کیا کہ ’میرے ٹویٹ پر غصہ ظاہر کرکے اسلام کے بارے میں پوچھا جارہا ہے، اسلام کے نام پر جو بے ہودہ تشدد کیا جاتا ہے وہی سب سے پہلے اسلام فوبیا کا سبب بنتا ہے۔ آج ہندوازم (ہندوتوا نہیں) بھی خود کو ایسی ہی صورتحال میں پاتا ہے جب اقلیتوں کو لنچ اور تشدد کا نشانہ بنانے کےلئے ان کے نام کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آئیے دوٹوک انداز میں غلط کو غلط کہتے ہیں‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں