مفتی خالد ندوی کے گھر پر این آئی اے کا چھاپہ، مقامی لوگوں کا زبردست احتجاج، آن لائن اسلامی کوچنگ کے ذریعہ ملک و بیرون ملک بچوں کو پڑھانا کوئی جرم نہیں، عالم دین کا بیان

حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے جھانسی میں این آئی اے اور اے ٹی ایس نے جمعرات کو علی الصبح مفتی خالد ندوی کے گھر پر چھاپہ مارا۔ بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی فنڈنگ معاملہ میں یہ کاروائی کی گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ بنیاد پرست سرگرمیوں کی حمایت کرنے والے غیر ملکی فنڈز سے متعلق وسیع تر تحقیقات کا حصہ ہے۔ مفتی خالد ندوی سلیم باغ علاقے میں آن لائن اور آف لائن مذہبی کلاسس چلاتے ہیں، فنڈنگ ​​کے ذرائع کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دوران مقامی لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوگئے اور پولیس کاروائی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ چھاپے کے دوران مفتی خالد ندوی کو کسی سے ملنے سے روک دیا گیا۔ تاہم ان کے گھر کے باہر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔ ایک موقع پر مشتعل ہجوم نے مداخلت کرتے ہوئے مفتی خالد ندوی کو وہاں سے لیجانے کی کوشش کی تاہم وہاں موجود مذہبی رہنماؤں نے انہیں سمجھایا اور حالات کو کنٹرول میں کیا۔

مفتی خالد ندوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات تقریباً 2.30-3.00 بجے، دہلی سے این آی اے افسران نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے میرا پورا گھر تلاش کیا لیکن کچھ نہیں ملا۔ وہ میرے پرانے سعودی ویزا اور پاسپورٹ کے علاوہ مذہبی کتابیں لے گئے، جنہیں وہ مشکوک کہہ رہے تھے۔

مفتی خالد ندوی نے مزید کہا کہ این آئی اے افسران نے میران موبائیل فون بھی چیک کیا، مجھ سے میرے واٹس ایپ رابطوں اور گروپس کے بارے میں پوچھ گچھ کی اور محمد الیاس گھمن کے بارے میں دریافت کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں ایک آن لائن اسلامی کوچنگ سینٹر چلاتا ہوں جہاں ملک و بیرون ملک سے بچے مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ افسران نے میرے بینک اسٹیٹمنٹس کو بھی چیک کیا۔

مفتی خالد ندوی کے گھر پہنچنے سے پہلے این آئی اے اور اے ٹی ایس کی ٹیم نے ان کے رشتہ دار مفتی صابر انصاری ندوی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، مکریانہ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر تقریباً ایک گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔

مفتی خالد ندوی کے چچا صابر انصاری ندوی نے بتایا کہ ان کا بھتیجا گذشتہ 10-12 سالوں سے عربی ٹیوشن آن لائین پڑھا رہا ہے۔ این آئی اے نے ہمیں کچھ نہیں بتایا۔ وہ گھر سے کمپیوٹر اور کتابیں لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آن لائین مذہبی تعلیم دینا کوئی جرم نہیں ہے۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میں انصاف ہو۔

واضح رہے کہ حکام کے مطابق مفتی خالد ندوی کو حراست میں لیکر پوچھ گچھ کی جارہی ہے تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری یا رہائی سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں