مسجد میں ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح نہیں ہوتے! کرناٹک ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان کی آزادی کے 75 سال بعد اب سپریم کورٹ میں اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ ’مسجد میں ہندو مذہبی نعرے لگانے پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں یا نہیں‘؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کرناٹک کی ایک مسجد کے اندر ‘جے شری رام’ کے نعرے لگانے کے الزام میں دو افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کو منسوخ کرنے سے متعلق کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر پیر کو سماعت ہوگی۔

اب سپریم کورٹ میں حیدر علی نامی شخص نے درخواست داخل کرکے کرناٹک کے اس فیصلہ کو چیلنج کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مسجد میں کسی ہندو شخص کی جانب سے جئے شری رام کہنے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح نہیں ہوتے اور یہ کوئی مجرمانہ عمل نہیں ہے۔ اس معاملہ کی سماعت جسٹس پنکج متل اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ کرے گی۔

دراصل پورا معاملہ اس طرح کا کہ 24 ستمبر 2023 کی رات دیر گئے کرناٹک کے ایٹور گاؤں کی بدریہ جمعہ مسجد میں دو ہندو نوجوان داخل ہوئے اور جئے شری رام کا نعرہ لگایا اور مسلمانوں کو دھمکیاں دی۔ تاہم مسجد کے ذمہ داروں نے شرپسندوں کے خلاف پولیس میں شکایت کی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے دونوں گرفتار کرلیا اور جیل بھیج دیا۔ کچھ روز بعد دونوں کو ضمانت مل گئی جس کے بعد دونوں نے خود پر لگے الزامات کو کرناٹک ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔

29 نومبر 2023 کو کرناٹک ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلہ پر روک لگا دی اور 13 ستمبر 2024 کو فیصلہ سناتے ہوئے گرفتاری کو غیر ضروری قرار دیا اور مقدمہ ختم کردیا۔ عدالت نے فیصلہ میں کہا کہ مسجد میں ‘جے شری رام’ کے نعرے لگانا کسی کمیونٹی کے مذہبی جذبات کو مجروح نہیں کرتا۔ جسٹس ایم ناگ پرسنّا نے فیصلہ سناتے ہوئے سوال کیا کہ ’ہندو مذہبی نعرے کس طرح کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں؟۔

یہ انتہائی اہم اور حساس معاملہ ہے، اس لئے ملک بھر کے مسلمانوں کی نظریں سپریم کورٹ پر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ اس معاملہ میں کیا فیصلہ سناتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں