حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شیکھر کمار یادو آج چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ کی قیادت والی سپریم کورٹ کالجیم کے سامنے پیش ہوئے تاکہ 8 دسمبر کو وشوا ہندو پریشد کے ایک پروگرام میں کیے گئے تبصروں پر اپنا موقف پیش کرسکیں۔
گذشتہ 10 دسمبر کو، عدالت عظمیٰ نے جسٹس شیکھر کمار یادو کے مسلم مخالفت بیانات پر خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ سے رپورٹ طلب کی تھی۔ اصول کے مطابق ایک جج، جس کے خلاف کالجیم کسی بھی متنازعہ معاملے پر متعلقہ ہائی کورٹ سے رپورٹ طلب کرتا ہے اور اسے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
جسٹس یادو کی متنازعہ تقریر پر بڑے پیمانہ پر تنقیدیں کی گئیں۔ ان کی تقریر کو مسلم مخالف اور انتہائی نفرت انگیز بتایا گیا۔ جسٹس یادو نے اپنی تقریر کے دوران مسلمانوں کو ’کٹھ ملا‘ تک کہہ دیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی تقریر کس طرح نفرت انگیز تھی۔
انہوں نے اپنی متنازعہ تقریر میں کہا تھا کہ ’ہندوستان اکثریتی برادری کی خواہشات کے مطابق کام کرے گا اور اکثریت کی فلاح و بہبود و خوشی دوسروں کی خواہشات پر غالب ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ تھا کہ ’’مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ یہ ہندوستان ہے اور یہ ملک یہاں رہنے والوں کی اکثریت کی مرضی کے مطابق چلے گا”۔
واضح رہےکہ معروف وکیل پرشانت بھوشن نے بھی چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک خط لکھ کر الہ آباد ہائی کے جسٹس شیکھر کمار یادو کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا۔


