چرچ میں گھس کر ’جے ایس آر‘ کا نعرہ اور بھجن گانے والے ہندوتوا شدت پسند کے خلاف مقدمہ درج، ملزم آکاش ساگر مفرور (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) میگھالیہ کے ایک چرچ میں داخل ہوکر ’جے ایس آر‘ کا نعرہ لگانے والے ہندوتوا شدت پسند کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 26 دسمبر جمعرات کو ماولینانگ گاؤں کے ایک چرچ میں اچانک ایک شدت پسند داخل ہوا اور جے ایس آر کے نعرے لگانا شروع کردیا اور خود اپنا ویڈیو بناکر اسے سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کردیا۔

میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ کے سنگما نے اس جنونی حرکت کی مذمت کی اور کہا ہے کہ اس معاملہ میں قانونی کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے جان بوجھ کر پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ ریاستی حکومت کسی کو بھی سماجی، مذہبی اور فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

ایسٹ خاصی ہلز کے ایس پی سلویسٹر نونگٹنگر نے کہا کہ اس معاملہ میں آکاش ساگر نامی شخص کے خلاف پنورسلا پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم مفرور ہے جبکہ اسے فوری گرفتار کیا جائے گا۔

سماجی کارکن انجیلا رنگاد نے کہا کہ ساگر جان بوجھ کر چرچ میں داخل ہوا۔ اس نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اور عیسائی مخالف نعرے بھی لگائے۔ یہ جان بوجھ کر کیا گیا عمل تھا۔ آئینی حقوق کو پامال کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں