حیدرآباد (دکن فائلز) سنبھل کی مقامی عدالت کے ذریعہ مقرر کردہ کمشنر نے شاہی جامع مسجد کی سروے رپورٹ بند لفافہ میں آج پیش کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈوکیٹ کمشنر رمیش سنگھ راگھو نے سنبھل شاہی جامع مسجد کی تقریباً 45 صفحات پر مشتمل سروے رپورٹ چندوسی ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کردی۔
مقامی عدالت کی ہدایت کے بعد سنبھل شاہی جامع مسجد کا سروے 19 نومبر اور 24 نومبر کو کیا گیا تھا۔ بند لفافے میں پیش کی گئی ہے۔
ہندو فریق کی جانب سے ضلعی عدالت میں عرضی دائر کرتے ہوئے جامع مسجد کو مندر پر تعمیر کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جس کے بعد عدالت نے ایڈوکیٹ کمشنر مقرر کرکے شاہی جامع مسجد کے سروے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد 19 اور 24 نومبر کو سروے ٹیم نے مسجد پہنچ کر سروے کیا تھا۔ تاہم 24 نومبر مسجد کے سروے کی مخالفت کرتے ہوئے مقامی مسلمانوں نے زبردست احتجاج کیا تھا۔ اس دوران ہوئی فائرنگ میں 5 مسلم نوجوان جاں بحق ہوگئے تھے۔
رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کے بعد ایڈوکیٹ کمشنر رمیش راگھو نے بتایا کہ سروے کے دوران ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی کی گئی تھی، رپورٹ سپریم کورٹ کی ہدایت پر بند لفافے میں سول جج سینئر ڈویژن کی عدالت میں پیش کردیا گیا۔


