اترپردیش: مدرسوں سے متعلق ریاستی وزیر کا متنازعہ بیان، مسلمانوں میں تشویش کی لہر

حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے وزیر کی جانب سے مدارس سے متعلق دیئے گئے بیان کے بعد مسلمانوں میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شراوستی ضلع میں واقع ایک مدرسہ سے غیر قانونی طور پر نقلی کرنسی چھانپنے کےلئے پرنٹر و دیگر سامان برآمد ہوئے تھے، جس کے بعد اقلیتی بہبود کے وزیر اوم پرکاش راج بھر نے ایک متنامعہ بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’پہلے پریاگ راج، اب شراوستی، اس طرح کے واقعات تمام مدارس کو شک کے دائرے میں لاتے ہیں، ہم ہر مدرسہ کی تحقیقات کریں گے اور قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے‘۔

وزیر کے بیان کے بعد مدارس کے خلاف ٹارگٹیڈ مہم کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ شراوستی کیس میں گرفتار کیے گئے پانچ ملزمان میں سے تین کا مبینہ طور پر ہندو برادری سے تعلق ہے۔ ایس پی گھنشیام نے اس معاملہ میں گرفتار کیے گئے پانچ افراد میں سے تین کی شناخت رام سیوک، اودھیش کمار پانڈے اور دھرم راج شکلا کے طور پر کی ہے اور یہ تینوں کا تعلق ہندو برادری سے بتایا جارہا ہے۔

مقامی لوگوں کے علاوہ مدرسہ انتظامیہ نے اس معاملہ میں غیر جانبداری پر زور دیتے ہوئے حکومت کے موقف پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مسلمانوں نے ایک دو معاملات کے بعد تمام مدارس پر شکوک و شبہات کا اظہار کرنے کی مدمت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں