OYO کے نئے ضوابط سے غیرشادی شدہ جوڑوں کی بے راہ روی اور زنا کاری پر لگے گی روک

حیدرآباد (دکن فائلز) اویو کا نام سن کر ہی لگتا تھا کہ 18 سال سے زیادہ کا کوئی بھی شخص آدھار کارڈ دکھاکر ہوٹل میں کمرہ بک کرواسکتا ہے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اویو نے اپنے ضوابط میں کچھ تبدیلی کی ہے۔ قبل ازیں نرم ضوابط کی وجہ سے اویو ہوٹلس میں مبینہ طور پر بے راہ روی اور زناکاری عام ہوگئی تھی اور یہ رومس آوارگی و بے حیائی کے اڈے بن چکے تھے، یہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں آسانی سے کمرہ بک کرکے اکیلے وقت گزاررہے تھے۔ ذرائع کے مطابق اس بے ہودہ عمل میں مسلم نوجوان لڑکے و لڑکیاں بھی ملوث تھے۔

اویو کو پہلے اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ کمرہ بک کرنے والے جوڑے شادی شدہ ہیں یا نہیں۔ قبل ازیں لڑکا اور لڑکی دونوں کا صرف بالغ ہونا کافی تھا لیکن تازہ طور پر OYO کے سی ای او رتیش اگروال نے اس میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب غیر شادی شدہ جوڑے کمرہ بک نہیں کروا سکتے۔ بکنگ کے وقت اب شادی شدہ ہونے کا مناسب ثبوت دکھانا لازمی ہوگا۔

کمپنی نے اتوار کو اویو چیک ان قوانین میں تبدیلیوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔ تبدیل شدہ قوانین کے مطابق اب غیر شادی شدہ جوڑوں کے لیے کمرہ بک کروانا ممکن نہیں ہوگا۔ سی ای او رتیش اگروال نے اعلان کیا کہ یہ قوانین سب سے پہلے میرٹھ سے شروع کیے جائیں گے اور فیلڈ لیول سے فیڈ بیک لینے کے بعد دوسرے شہروں میں اسے لاگو کیا جائے گا۔

کمپنی نے کہا کہ Oyo محفوظ اور ذمہ دار مہمان نوازی کے طریقوں کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے چیک ان رولز کو تبدیل کیا گیا ہے، وہ ایک ایسے برانڈ کے طور پر کھڑے ہونا چاہتے ہیں جو خاندانوں، طلباء اور تنہا مسافروں کے لیے محفوظ رہائش فراہم کرے۔

ذرائع کے مطابق نرم ضوابط کی وجہ سے غیرشادی شادہ جوڑوں کا اویو رومس میں اکیلے وقت گذارنا اور بدکاری میں ملوث ہونا ایک عام بات ہوچکی تھی۔ کالج کے لڑکے لڑکیاں بڑی تعداد میں رومس بک کرواکر بے راہ روی و بے ہودہ حرکات کے مرتکب ہوتے تھے تاہم اب نئے قوانین سے اس طرح کی حرکتیں کچھ حد تک کم ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں