حیدرآباد (دکن فائلز) جسٹس پی سی گھوش کمیشن نے سابق وزیراعلیٰ کے سی آر سے کالیشورم پروجیکٹ سے متعلق مختلف معاملات پر 50 منٹ تک پوچھ گچھ کی۔ کالیشورم کمیشن نے سابق وزیر اعلیٰ سے 115ویں گواہ کے طور پر پوچھ گچھ کی۔ اس موقع پر کے سی آر نے کالیشورم پراجکٹ سے متعلق معاملہ کی رپورٹ کمیشن کے حوالہ کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کالیشورم کمیشن نے سابق سی ایم کے سی آر سے 18 سوالات پوچھے۔ کمیشن نے ڈیموں کی تعمیر اور اس کی منظوری سے متعلق سوالات پوچھے۔ اس دوران جسٹس پی سی گھوش کمیشن نے کالیشورم کارپوریشن کے بارے میں استفسار کیا۔ کے سی آر نے کہا کہ کارپوریشن کی تشکیل نئی ریاست میں فنڈز کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کا قیام کالیشورم کو جلد مکمل کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ جب کمیشن نے کے سی آر سے بیراجوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے بارے میں وضاحت طلب کی تو انہوں نے جواب دیا کہ انجینئر اس بات کا خیال رکھیں گے کہ کتنا پانی ذخیرہ کرنا ہے۔
کمیشن نے کے سی آر سے یہ بھی پوچھا کہ کیا انہوں نے بیراجوں میں پانی کی مقدار کو ذخیرہ کرنے کی کوئی ہدایات دی ہیں، اور انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے کوئی ہدایات نہیں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی ٹیم اس بات کا جائزہ لے گی کہ پانی کو موڑنے کے لیے کتنا پانی ذخیرہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پانی ذخیرہ کرنا کوئی سیاسی فیصلہ نہیں ہے۔
قبل ازیں کمیشن نے سابق وزراء ایٹلا راجندر اور ہریش راؤ سے پراجکٹ پالیسی، فیصلوں اور مالی مسائل پر پوچھ گچھ کی۔ جسٹس پی سی گھوش نے کے سی آر کو اس ماہ کی 5 تاریخ کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا۔


